جنوبی کوریا نے خلیج فارس کے حساس مقام، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اس اہم سمندری گذرگاہ میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے بعد سیول نے پانچ جنوبی کوریا کے جھنڈے والی جہازوں کو سعودی عرب کے بحری بندرگاہ ینبو میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ تیل کی متبادل درآمدی راہوں کو قائم کیا جا سکے۔ یہ اقدام ملکی توانائی کی حفاظت اور عالمی منڈی میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے تیل اور گیس کے عالمی بہاؤ کے لیے ایک اہم اور تنگ سمندری راستہ ہے، جسے ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔ اس بندش نے عالمی توانائی کی منڈی میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے اثرات اقتصادی ترقی اور قیمتوں کے استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا، جو اپنی ضرورت کے تقریباً ستر فیصد تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس صورتحال میں انتہائی خطرے کا شکار ہے، اور اسی لیے ملک میں توانائی کے بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
سیول میں قانون سازوں نے اس صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متبادل راستے تلاش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو اور ملکی توانائی کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ قانون ساز آن دو-گول کے مطابق جنوبی کوریا کے جھنڈے والی جہازوں کو ینبو بندرگاہ بھیجنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو عبور کیے بغیر تیل درآمد کیا جا سکے۔ یہ اقدام ملک کی توانائی کی پالیسی میں خود انحصاری اور خطرے سے نمٹنے کی حکمت عملی کی علامت بھی ہے۔
جہازوں کے تعینات کرنے کے علاوہ، حکومت نے سعودی عرب، عمان اور الجزائر جیسے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں خصوصی نمائندے بھی بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان سفارتی مشنز کا مقصد اضافی تیل کی فراہمی کے لیے مذاکرات کرنا، درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور توانائی کی در آمدات کو مستحکم بنانا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہیں بلکہ طویل مدت میں جنوبی کوریا کی توانائی کی حفاظت کو مضبوط کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات جنوبی کوریا کے مختلف شعبوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات صارفین کی اشیاء، پیداوار اور نقل و حمل پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت نے اس کے پیش نظر 17.2 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی تجویز دی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے اثرات سے بچا جا سکے۔ صدر لی جے میونگ نے اس صورتحال کو "جنگی حالت” قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بحران کے دوران فوری اور مربوط اقدامات کے لیے تیار ہے۔
اس کے علاوہ، جنوبی کوریا کی وزارت توانائی نے عوام میں توانائی کی بچت کے حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کی ہے۔ ہدایات میں شہریوں کو پانی کی بچت، دن کے وقت موبائل فون چارج کرنے کی ترغیب، اور غیر ضروری توانائی کے استعمال میں کمی جیسے اقدامات اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون قومی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ توانائی کے بحران کے اثرات صرف بندرگاہوں یا پائپ لائن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز پر انحصار ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اس تنگ راستے سے گزرتا ہے۔ حالیہ بندش نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ینبو کے ذریعے متبادل راستے قائم کر کے اور متعدد تیل پیدا کرنے والے ممالک سے مذاکرات کر کے جنوبی کوریا اس خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اپنے توانائی کے نیٹ ورک کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ عالمی سیاست اور ملکی اقتصادی استحکام ایک دوسرے سے کس قدر جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا، جیسے دیگر صنعتی ممالک، توانائی کی قیمتوں میں تبدیلیوں سے حساس ہے، جس کے اثرات پیداوار، نقل و حمل اور عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کی کثیر جہتی حکمت عملی—جہاز تعینات کرنا، سفارتی اقدامات، اضافی بجٹ، اور عوامی توانائی کی بچت—یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک بحران کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
جنوبی کوریا کے پانچ جہازوں کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ عملی طور پر توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہے اور مارکیٹ کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام بھیجتا ہے کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ ان اقدامات کے ساتھ سعودی عرب، عمان اور الجزائر میں خصوصی نمائندوں کی تعیناتی توانائی کی فراہمی کے استحکام کو مزید یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
ینبو بندرگاہ کی طرف جہاز بھیجنے کا اقدام جنوبی کوریا کی بحری حکمت عملی میں بھی ایک اہم موڑ ہے۔ روایتی طور پر یہ ملک خلیج فارس کے راستے توانائی کی درآمد کرتا رہا ہے، لیکن اب اس نے متبادل سمندری راستوں، بشمول سرخ سمندر کے بندرگاہوں، پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جغرافیائی یا سیاسی بحران سے نمٹا جا سکے۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومت کے اضافی بجٹ، توانائی کی بچت کی مہم کے ساتھ مل کر ایک مکمل حکمت عملی کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں توانائی کی فراہمی اور طلب دونوں پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملکی معیشت توانائی کی عالمی بحران سے متاثر نہ ہو اور طویل مدت میں توانائی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
