خلیج میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت پر نئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر سائرن بجا دیے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کیں، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام فعال ہو چکا ہے اور آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جبیل کے صنعتی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی علاقے کی جانب آنے والے 7 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا، تاہم ان کے ملبے سے توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
ادھر کویت میں علی السالم فضائی اڈے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں 15 امریکی اہلکار زخمی ہو گئے، جس کی تصدیق امریکی حکام نے بھی کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک پر حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے، اور اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی سپلائی پر بھی مرتب ہوں گے۔

Add A Comment