عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر ایران پر حملے مکمل طور پر روک دیے جاتے ہیں تو ایران بھی اپنی جانب سے تمام فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشروط جنگ بندی ہے جس کا انحصار دونوں فریقین کے رویے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی فوج کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ ٹرانزٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ایران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو بھی قبول کر چکا ہے، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق اس سیز فائر کی منظوری اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی گئی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی متعدد شرائط کو تسلیم کر لیا ہے اور دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے، جسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز 10 اپریل سے ہوگا، اور اگر دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت مثبت رہی تو مذاکرات کے دورانیے میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کیلئے بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment