وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بھی ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور وہ آئندہ مذاکراتی عمل میں شریک ہوگا، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے ایران پر جاری بمباری روک دی ہے اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان کی متحرک سفارتکاری کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنگ بندی میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے یہ فیصلہ ایک اہم ڈیڈ لائن سے محض ڈیڑھ گھنٹہ قبل کیا، جب ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا سویلین تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے وارننگ دی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے امریکی صدر سے براہِ راست رابطہ کر کے ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کی درخواست کی تھی، جس کے بعد یہ اہم پیش رفت سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پرامن حل کیلئے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور پاکستان اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کوششوں کے نتیجے میں جلد مثبت اور ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی پر آمادگی اور مذاکرات میں شمولیت ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے
