نیویارک: کیریبین ملک جمیکا سے امریکی شہر نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ جانے والی ایک پرواز اس وقت غیر معمولی خبر بن گئی جب دورانِ سفر ایک خاتون مسافر نے بچے کو جنم دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیریبین ائیرلائنز کی یہ پرواز 4 اپریل کو کنگسٹن سے روانہ ہوئی تھی۔ دورانِ پرواز اچانک طبی ایمرجنسی پیش آئی، تاہم خوش قسمتی سے ماں اور بچے دونوں محفوظ رہے اور فضائی عملے نے صورتحال کو بخوبی سنبھالا۔
ایئرلائن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیویارک پہنچنے پر ماں اور نومولود کا فوری طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں مکمل نگہداشت فراہم کی گئی۔ تاہم بچے کی جنس اور پیدائش کے درست وقت یا پرواز کے مرحلے کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ذرائع کے مطابق طیارے کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے عندیہ ملا کہ ممکنہ طور پر نومولود لڑکا ہے۔ پائلٹ نے بتایا کہ ماں نے بچے کا نام “کینیڈی” رکھا ہے، جو جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی مناسبت سے رکھا گیا۔
اس واقعے کے بعد سب سے دلچسپ سوال بچے کی شہریت کے حوالے سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ چونکہ بچے کے والدین کی شہریت اور پیدائش کے وقت طیارے کی درست جغرافیائی پوزیشن کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں، اس لیے قانونی صورتحال پیچیدہ بن گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہو تو بچے کو خود بخود امریکی شہریت مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پیدائش امریکی فضائی حدود میں ہوئی ہو تو بھی امریکی قوانین کے تحت شہریت دی جا سکتی ہے۔
امریکی آئین کے مطابق ملک کی حدود میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری ایک ایگزیکٹو آرڈر نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، جسے بعد ازاں ایک وفاقی عدالت نے معطل کر دیا اور اس پر حتمی فیصلہ ابھی زیر التوا ہے۔حکام کے مطابق ایسے کیسز میں پیدائش سے متعلق مکمل دستاویزات درکار ہوتی ہیں، جن میں طیارے کا میڈیکل لاگ، پائلٹ کی رپورٹ، پیدائش کا وقت اور طیارے کی اس وقت کی لوکیشن شامل ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ عمومی طور پر ایئرلائنز 36 ہفتوں سے زائد حاملہ خواتین کو سفر کی اجازت نہیں دیتیں، جبکہ 28 ہفتوں کے بعد طبی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جاتا ہے۔کیریبین ائیرلائنز کے مطابق اس واقعے کے دوران باقاعدہ ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی، جبکہ خاتون مسافر کی درخواست پر ان کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ منفرد واقعہ نہ صرف ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا بلکہ اس نے بین الاقوامی قوانین، شہریت اور فضائی سفر سے متعلق کئی دلچسپ سوالات کو بھی جنم دے دیا ہے
