یورپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سپین نے ایران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سفارت خانہ مارچ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔
ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے میڈرڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تہران میں تعینات اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس جا کر ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت خانے کی بحالی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی علامت ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو تقویت دینے کی ایک سنجیدہ کاوش بھی ہے۔
انہوں نے کہا، ہم اپنے سفیر کو ہدایت دے چکے ہیں کہ وہ تہران واپس جا کر ہسپانوی سفارت خانہ دوبارہ فعال کریں اور وہاں سے دستیاب تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی برادری ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب گامزن ہے، خاص طور پر حالیہ جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے سفارت خانوں کی بحالی خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف براہ راست رابطے بحال ہوتے ہیں بلکہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے عمل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
