بیساکھی میلے اور 327ویں خالصہ جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے بھارت سے آنے والے سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خوشیوں، عقیدت اور روایتی رنگوں سے بھرپور یہ مناظر دیکھنے والوں کیلئے نہایت دلکش اور روح پرور ثابت ہوئے۔
واہگہ بارڈر کے راستے آنے والے 2800 سے زائد سکھ یاتریوں کا استقبال حکام اور مقامی افراد کی جانب سے کیا گیا، جہاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا۔
یہ یاتری اپنے 10 روزہ قیام کے دوران ننکانہ صاحب، حسن ابدال میں واقع گوردوارہ پنجہ صاحب اور کرتارپور سمیت دیگر مقدس مقامات کا دورہ کریں گے، جہاں وہ مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
بیساکھی میلے کی مرکزی تقریب 14 اپریل کو گوردوارہ پنجہ صاحب میں منعقد ہوگی، جس میں سردار رمیش سنگھ اروڑا، ضلعی انتظامیہ اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام بھی شریک ہوں گے۔
حکام کے مطابق سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے لنگر، ٹرانسپورٹ اور میڈیکل سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کا قیام آرام دہ اور یادگار بنایا جا سکے۔
یاتریوں نے پاکستان آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں بے حد عزت، محبت اور احترام ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان آ کر دل خوش ہو گیا، لوگوں نے بہت پیار دیا۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذہبی تہوار نہ صرف سکھ برادری کیلئے روحانی اہمیت رکھتا ہے بلکہ پاکستان کے امن، مذہبی رواداری اور مثبت تشخص کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
