کینبرا: آسٹریلیا کی دفاعی تاریخ میں ایک بڑا اور تاریخی موڑ سامنے آیا ہے جہاں ملک نے اپنی 125 سالہ عسکری تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو فوج کی سربراہی سونپ دی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سوسن کوائل جولائی میں باضابطہ طور پر چیف آف آرمی کا عہدہ سنبھالیں گی اور اس طرح وہ آسٹریلوی فوج کی پہلی خاتون سربراہ بن جائیں گی۔اس وقت سوسن کوائل جوائنٹ کیپیبلٹیز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ موجودہ آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹیورٹ کی جگہ لیں گی، جو جولائی 2022 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔
سوسن کوائل کا فوجی کیریئر تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف آپریشنز اور اہم کمانڈ ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ جدید عسکری شعبوں جیسے سائبر وار فیئر میں بھی نمایاں تجربہ حاصل کیا۔ان کی تعیناتی کو آسٹریلوی دفاعی ادارے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فوج میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی سے پہلی بار ایک خاتون ملک کی فوج کی سربراہ ہوں گی۔
اسی طرح وزیرِ دفاع نے بھی اس تقرری کو آسٹریلوی دفاعی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلوی دفاعی افواج میں اس وقت خواتین کا تناسب تقریباً 21 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ قیادت میں یہ شرح 18.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے 2030 تک خواتین کی نمائندگی کو 25 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی فوج کو بعض داخلی چیلنجز جیسے جنسی ہراسانی اور امتیازی سلوک کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ادارے میں اصلاحات اور جدیدیت کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
