استنبول میں منعقد ہونے والے پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط ایک بار پھر نمایاں رہے، جہاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ایک اہم اور تفصیلی دو طرفہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات فورم کے موقع پر منعقد کی گئی جس میں دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے رہنما، وزرائے خارجہ، پالیسی ساز اور سفارتکار شریک تھے، اور یہ پلیٹ فارم عالمی مسائل پر مکالمے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی فورم کے طور پر ابھرا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی وزیراعظم کا پرتپاک اور گرمجوش انداز میں استقبال کیا اور ان کی اس عالمی فورم میں شرکت کو سراہا۔ ترک ایوان صدر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات انتہائی خوشگوار، دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی ماحول میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کی حکومت، صدر اردوان اور ترک عوام کی جانب سے دی جانے والی شاندار مہمان نوازی پر گہرے شکریہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم تیزی سے ایک مؤثر عالمی فورم کی حیثیت اختیار کر رہا ہے، جہاں دنیا کے اہم مسائل پر سنجیدہ اور تعمیری گفتگو کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے فورمز عالمی امن، تعاون اور سفارتکاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز رہی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں، مذاکرات اور مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے ترک قیادت کو آگاہ کیا، جن میں جنگ بندی کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے امن پر مبنی مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات محض دو طرفہ نہیں بلکہ ایک گہری برادرانہ وابستگی پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں پیدا ہونے والے سفارتی مواقع کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے دیرپا اور پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق صرف بات چیت اور مسلسل رابطہ ہی ایسے ذرائع ہیں جو تنازعات کو کم کر کے استحکام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جس پر دونوں فریقین نے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور تعلیمی میدانوں میں نئے منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دو طرفہ تعلقات کو محض روایتی تعاون تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں ایک جامع اور اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔
اہم پیش رفت کے طور پر دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کا آٹھواں اجلاس رواں سال انقرہ میں منعقد کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں مختلف مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید ادارہ جاتی اور مضبوط بنایا جا سکے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جائے اور ان پر عملدرآمد کو مؤثر بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئے تجارتی راستے تلاش کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام شامل تھے، جبکہ ترک وفد کی قیادت وزیر خارجہ حاکان فیدان اور دیگر سینئر حکام نے کی، جو اس ملاقات کی اہمیت اور سطح کو واضح کرتا ہے۔
اسی سفارتی دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف، آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور شام کے صدر احمد الشرع شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی اور کوسوو کی سابق صدر ویجوسا عثمانی سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں تعاون کے فروغ اور علاقائی امن کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں پاکستان کی اعلیٰ سطحی شرکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن، تعاون اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
