نیروبی: کینیا میں ایک چینی شہری کو 2,000 سے زائد زندہ چیونٹیاں اسمگل کرنے کی کوشش پر 12 ماہ قید اور 10 لاکھ کینین شلنگ جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزم ژانگ کیچون کو مارچ میں نیروبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں اس کے سامان سے 2,200 زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئی تھیں۔حکام کے مطابق چیونٹیوں کو خصوصی ٹیوبز اور ٹشو رولز میں چھپا کر رکھا گیا تھا تاکہ انہیں بیرون ملک اسمگل کیا جا سکے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے سخت سزا دینا ناگزیر ہے، کیونکہ یورپ اور ایشیا میں ان نایاب چیونٹیوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ژانگ کیچون اور اس کے کینین ساتھی چارلس موانگی کے پاس جنگلی حیات کی خرید و فروخت کے لیے درکار قانونی اجازت نامے موجود نہیں تھے۔
ابتدائی طور پر ملزم نے جرم سے انکار کیا، تاہم بعد میں اس نے اعتراف جرم کر لیا۔ اس کے وکیل نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔کینین حکام کے مطابق ملزم نے ان چیونٹیوں کی خریداری کے لیے تقریباً 130,000 کینین شلنگ ادا کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی اسمگلنگ نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
