تہران/واشنگٹن: ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے امریکا کی جانب سے ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی فوجی حکام کے مطابق جس جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ چین سے ایران آ رہا تھا، اور اس پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران جلد ہی امریکی فوج کی “میرِی ٹائم اور مسلح ڈکیتی” کا جواب دے گا اور اس حوالے سے جوابی کارروائی ناگزیر ہے۔
ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی حملے کے بعد ایرانی فورسز نے کچھ امریکی بحری جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایرانی بحری جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ایسے ایرانی جہاز کو روکا جو آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا، اور اسے نشانہ بنا کر قبضے میں لے لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور اگر حالات اسی طرح رہے تو سمندری محاذ پر تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی سپلائی پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے

Add A Comment