امریکہ میں ایک ایرانی نژاد کاروباری خاتون کی گرفتاری نے بین الاقوامی سطح پر اسلحہ اسمگلنگ، خفیہ نیٹ ورکس اور پابندیوں سے بچنے کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ خاتون، شمیم مافی، جو قانونی طور پر امریکہ میں مستقل رہائش رکھتی تھیں، کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق ان پر نہایت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں غیر قانونی اسلحہ تجارت اور غیر ملکی ریاستی اداروں کے ساتھ مبینہ روابط شامل ہیں۔
یہ گرفتاری ہفتے کی شام عمل میں آئی، جس کی تصدیق امریکی محکمہ انصاف کے تحت کام کرنے والے وسطی کیلیفورنیا کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے کی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق شمیم مافی پر الزام ہے کہ وہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے اسلحہ کی خرید و فروخت میں سہولت فراہم کر رہی تھیں، جس کا تعلق ایران سے جوڑا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے ڈرونز، دھماکہ خیز مواد اور دیگر عسکری سامان کی ترسیل کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جسے بالآخر افریقی ملک سوڈان بھیجا جانا تھا۔
عدالتی دستاویزات میں اس کیس کے کئی پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شمیم مافی نہ صرف اسلحہ سودوں میں ملوث تھیں بلکہ وہ ایران کے حساس ادارے ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے ساتھ براہ راست رابطے میں بھی رہیں۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہیں اس ادارے کی جانب سے ہدایات اور مالی معاونت فراہم کی گئی تاکہ وہ امریکہ کے اندر ایک کاروباری ڈھانچہ قائم کر سکیں، جسے بظاہر ایک عام کمپنی کے طور پر پیش کیا گیا مگر درحقیقت اسے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق اس کمپنی کے ذریعے سنہ 2025ء تک کئی بڑے سودے طے کیے گئے۔ ان میں ایک انتہائی اہم معاہدہ بھی شامل تھا، جس کی مالیت 70 ملین امریکی ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اس معاہدے میں ایران کے تیار کردہ مہاجر-6 طرز کے ڈرونز کی خرید و فروخت شامل تھی، جو کہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بموں کے ہزاروں ڈیٹونیٹرز اور دیگر حساس آلات کی فراہمی کا بھی منصوبہ بنایا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سامان سوڈان کی وزارت دفاع تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی تھی، ایسے وقت میں جب وہ ملک پہلے ہی شدید خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔
شمیم مافی کی ذاتی تاریخ بھی اس کیس کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہوں نے سنہ 2013ء میں ایران چھوڑا اور بعد ازاں براک اوباما کے دورِ حکومت میں سنہ 2016ء میں امریکہ کا مستقل رہائشی درجہ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ایک کمپنی کے ذریعے خود کو ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم استغاثہ کے مطابق یہی کمپنی دراصل اسلحہ سودوں کے لیے بطور کور استعمال ہو رہی تھی۔
تحقیقات میں سامنے آنے والی ایک اور اہم تفصیل یہ ہے کہ شمیم مافی دسمبر 2022ء سے جون 2025ء کے دوران مسلسل ایران کے انٹیلی جنس حکام کے ساتھ رابطے میں تھیں۔ ان رابطوں کا سراغ امریکی حکام نے ٹیلی فونک نگرانی کے ذریعے لگایا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان رابطوں کے دوران اسلحہ سودوں، ترسیل کے راستوں اور مالی لین دین سے متعلق بات چیت کی گئی۔ مزید یہ کہ انہوں نے مختلف ممالک، خاص طور پر ترکیہ، کو بطور راستہ استعمال کیا تاکہ امریکی پابندیوں سے بچا جا سکے اور نگرانی کے نظام کو دھوکہ دیا جا سکے۔
ایک اور پہلو جو اس کیس میں خاصی توجہ کا مرکز بنا، وہ شمیم مافی کا طرزِ زندگی ہے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکہ میں ایک نہایت آسودہ اور پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں۔ کیلیفورنیا کے علاقے ووڈ لینڈ ہلز میں ان کا ایک وسیع و عریض گھر موجود تھا۔ وہ اکثر دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کرتی رہیں اور اپنی تصاویر آن لائن شیئر کرتی تھیں۔ ان تصاویر میں قیمتی گاڑیاں، مہنگے ملبوسات اور لگژری طرزِ زندگی نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک تصویر میں انہیں ایک مہنگی مرسڈیز بینز روڈسٹر کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا، جس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔
تاہم، جب ان سے تفتیش کی گئی تو انہوں نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے امریکہ میں کسی بھی قسم کی خفیہ یا غیر قانونی سرگرمی انجام دینے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ صرف ایک کاروباری خاتون ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
اس کے باوجود، عدالتی ریکارڈ میں شامل شواہد ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ایران نے سنہ 2020ء میں ان کے والد سے وراثت میں ملنے والی جائیداد ضبط کر لی تھی۔ بعد ازاں ایرانی انٹیلی جنس ادارے نے انہیں ہدایت دی کہ وہ امریکہ میں ایک کمپنی قائم کریں اور اس کے ذریعے مالی وسائل جمع کر کے وہ جائیداد دوبارہ حاصل کریں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہی پس منظر ان کی مبینہ سرگرمیوں کی بنیاد بنا۔
اب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور شمیم مافی کو وفاقی عدالت لاس اینجلس میں پیش کیا جانا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کیس کے نتائج نہ صرف ایک فرد کی قسمت کا تعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ عالمی سطح پر اسلحہ کی غیر قانونی تجارت اور خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کس حد تک مؤثر ہیں۔
