لبنان نے جنوبی علاقوں میں صحافیوں کو نشانہ بنانے پر اسرائیل کے خلاف شدید ردِعمل دیتے ہوئے اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔
لبنانی وزیرِ اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، اور اسرائیل کو صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دینی چاہیے۔
دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی افواج نے تعاقب کرتے ہوئے اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں خواتین صحافی پناہ لیے ہوئے تھیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے دوران ایک خاتون صحافی امل خلیل جاں بحق جبکہ دوسری صحافی زینب زخمی ہو گئی تھیں۔
لبنانی میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤں الطیری میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے سے دو افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد موقع پر پہنچنے والی خواتین صحافیوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں صحافی کئی گھنٹوں تک ملبے تلے پھنسی رہیں، تاہم مسلسل حملوں کے باعث امدادی ٹیمیں بروقت نہ پہنچ سکیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے زیرِ استعمال ایک عسکری مقام سے نکلنے والی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ فوج نے صحافیوں کو دانستہ نشانہ بنانے یا امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں جاری جنگ بندی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
