یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے تحت کم لاگت والے ڈرونز کی مشترکہ تیاری پر کام کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کلیدی شراکت دار کے طور پر شامل ہوں گے، جبکہ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق یہ تعاون صرف ڈرونز کی تیاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں جدید سافٹ ویئر کی فراہمی، آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تربیتی پروگرامز اور تکنیکی معاونت بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان معاہدوں کو باضابطہ شکل دینے کے لیے سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ دفاعی صنعت میں ایک مضبوط اور پائیدار ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔
اس پیش رفت کی بنیاد حال ہی میں سعودی عرب اور یوکرین کے درمیان طے پانے والی ایک اہم یادداشتِ مفاہمت ہے، جو دفاعی خریداری اور تعاون سے متعلق ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرینی صدر نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری اپنے پیغام میں اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور سعودی وزارتِ دفاع کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق یہ دستاویز نہ صرف آئندہ دفاعی معاہدوں، سرمایہ کاری اور تکنیکی اشتراک کی راہ ہموار کرے گی بلکہ عالمی سطح پر یوکرین کے کردار کو بھی ایک سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر مزید مستحکم بنائے گی۔
دوسری جانب اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام نے شرکت کی۔ سعودی وزارتِ دفاع کی نمائندگی اسسٹنٹ وزیر دفاع برائے ایگزیکٹو امور ڈاکٹر خالد البیاری نے کی، جبکہ یوکرین کی جانب سے مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اینڈی ہناٹوف نے دستخط کیے۔ یہ دستخط اس بات کا عملی اظہار ہیں کہ دونوں ممالک دفاعی میدان میں طویل المدتی تعاون کے خواہاں ہیں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق خلیجی ممالک اور یوکرین کے درمیان یہ تعاون نہ صرف خطے میں دفاعی ٹیکنالوجی کے فروغ کا سبب بنے گا بلکہ کم لاگت اور جدید ڈرونز کی تیاری کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقت کو بھی نئی جہت فراہم کرے گا۔
