مدینہ منورہ کی روح پرور فضا میں پہنچتے ہی پاکستانی عازمین حج کی بڑی تعداد نے اپنی عبادات کا آغاز نہایت عقیدت اور خشوع و خضوع کے ساتھ کیا۔ ان مقدس لمحات میں سب سے زیادہ اہمیت اس سعادت کو حاصل ہوتی ہے جب زائرین مسجد نبوی میں حاضر ہو کر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام پیش کرتے ہیں اور اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ابتدائی قافلوں میں شامل پاکستانی عازمین، جو حج پروازوں کے آغاز کے فوراً بعد حجاز مقدس پہنچے، ان دنوں مدینہ منورہ میں قیام کے دوران انہی بابرکت مواقع سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
یہ عازمین ان پروازوں کے ذریعے روانہ ہوئے جو اٹھارہ اپریل سے شروع ہوئیں، اور ان کا پہلا پڑاؤ مدینہ منورہ رکھا گیا تاکہ وہ حج کے باقاعدہ مناسک کی ادائیگی سے قبل روحانی تیاری کر سکیں۔ اس ابتدائی قیام کا مقصد صرف آرام یا قیام نہیں بلکہ ایک ایسی فضا میں وقت گزارنا ہے جہاں ہر لمحہ عبادت، دعا اور درود و سلام میں گزرتا ہے۔ مسجد نبوی میں حاضری دینا ہر مسلمان کے لیے ایک خواب کی تکمیل کے مترادف ہوتا ہے، اور پاکستانی زائرین اس سعادت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مسجد نبوی کے اندر واقع ریاض الجنہ کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، جسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نوافل کی ادائیگی کے لیے زائرین بے حد شوق رکھتے ہیں۔ پاکستانی عازمین بھی اپنے مقررہ اوقات کے مطابق اس بابرکت مقام تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور نہایت سکون و انہماک کے ساتھ عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ریاض الجنہ میں چند لمحے گزارنا بھی ان کے لیے ایک یادگار روحانی تجربہ بن جاتا ہے، جسے وہ زندگی بھر نہیں بھلا پاتے۔
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دینا اس سفر کا سب سے اہم اور محبوب حصہ سمجھا جاتا ہے۔ زائرین جب درود و سلام پیش کرتے ہیں تو ان کے دل جذبات سے لبریز ہوتے ہیں اور آنکھیں عقیدت سے نم ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک مسلمان اپنے ایمان کی گہرائی کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ پاکستانی عازمین بھی انہی جذبات کے ساتھ اس مقام پر حاضر ہوتے ہیں اور اپنی دعاؤں میں اپنے اہل خانہ، وطن اور پوری امت مسلمہ کو یاد رکھتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران عازمین کو اس بات کا بھی خاص اہتمام کرنے کا موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ نمازیں مسجد نبوی میں ادا کریں۔ یہاں ایک نماز کا اجر دیگر مقامات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بتایا گیا ہے، جس کی وجہ سے زائرین حتی الامکان ہر نماز اسی مسجد میں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ان کے قیام کے پورے عرصے میں جاری رہتا ہے، اور وہ اپنے وقت کو عبادت، ذکر اور دعا میں گزارتے ہیں۔
عازمین کی سہولت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔ اسی شیڈول کے تحت مختلف گروپس کو مسجد نبوی اور خصوصاً ریاض الجنہ میں داخلے کے اوقات دیے جاتے ہیں، تاکہ رش کو قابو میں رکھا جا سکے اور ہر زائر کو مناسب وقت اور سکون کے ساتھ عبادت کا موقع مل سکے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین کے پیش نظر یہ انتظامات نہایت ضروری ہوتے ہیں، اور پاکستانی عازمین بھی انہی قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی عبادات انجام دیتے ہیں۔
وزارت مذہبی امور کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق رواں سال ایک بڑی تعداد میں پاکستانی شہری فریضہ حج ادا کرنے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ اناسی ہزار دو سو دس عازمین اس عظیم عبادت کی سعادت حاصل کریں گے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد سرکاری اسکیم کے تحت روانہ ہو رہی ہے، جبکہ باقی افراد نجی حج کمپنیوں کے ذریعے اپنے سفر کا انتظام کر رہے ہیں۔ یہ دونوں طریقے عازمین کو حجاز مقدس پہنچنے اور وہاں قیام و عبادت کے لیے مختلف سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
سرکاری اسکیم کے تحت جانے والے عازمین کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل انتظامات کیے جاتے ہیں، جن میں رہائش، کھانا، ٹرانسپورٹ اور رہنمائی شامل ہوتی ہے۔ دوسری جانب نجی کمپنیوں کے ذریعے جانے والے افراد کو بھی مختلف پیکجز کے تحت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اپنے سفر کو آرام دہ اور بامقصد بنا سکیں۔ اس طرح ہر سال لاکھوں پاکستانی اس عظیم عبادت میں شرکت کے لیے اپنی زندگیاں ترتیب دیتے ہیں اور مالی و جسمانی طور پر تیاری کرتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران عازمین کے لیے صرف عبادات ہی نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ایک مکمل ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ وہ یہاں نہ صرف نمازیں ادا کرتے ہیں بلکہ سیرت النبی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر بھی کرتے ہیں۔ اس مقدس شہر کی فضا انہیں صبر، شکر اور عاجزی جیسی صفات سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جو ان کی زندگیوں پر دیرپا اثر ڈالتی ہیں۔
یہ سفر دراصل ایک روحانی تبدیلی کا ذریعہ ہوتا ہے، جہاں انسان دنیاوی مصروفیات سے دور ہو کر اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستانی عازمین بھی اسی جذبے کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچتے ہیں اور ہر لمحے کو عبادت اور ذکر میں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ موقع نہ صرف ایک فرض کی ادائیگی ہے بلکہ ایک ایسا تجربہ بھی ہے جو ان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور انہیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
اس تمام عمل میں نظم و ضبط اور باہمی احترام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، کیونکہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے لاکھوں افراد ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر عازم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قواعد کی پابندی کرے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ پاکستانی عازمین بھی اس حوالے سے اپنی بہترین مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری امت کی نمائندگی اچھے انداز میں کر سکیں۔
