ایران کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران صرف دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوگی۔
ابراہیم عزیزی کے مطابق اس دورے میں جوہری معاملہ زیرِ غور نہیں آئے گا، کیونکہ یہ ایران کی اہم “ریڈ لائن” میں شامل ہے اور اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور حساس امور پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو سفارتی مذاکرات سے الگ رکھتے ہوئے اسے ایک حساس اور خودمختار معاملہ تصور کرتا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو الگ سفارتی دائرے میں آگے بڑھایا جا رہا ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment