مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں اور غزہ کے مرکزی حصے دیر البلح میں ہفتے کے روز بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں، جو غزہ جنگ کے بعد فلسطینیوں کے لیے پہلی انتخابی سرگرمی سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ عمل ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ شدید سیاسی بے یقینی، انسانی بحران اور عوامی مایوسی کا شکار ہے۔
رام اللہ میں قائم مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 15 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز مغربی کنارے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جبکہ غزہ کے علاقے دیر البلح میں تقریباً 70 ہزار افراد اس انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں گے۔ مغربی کنارے اسرائیلی قبضے کے تحت ہے، جہاں سیاسی اور انتظامی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے۔
انتخابی میدان میں زیادہ تر فہرستیں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جماعت فتح سے وابستہ ہیں یا آزاد امیدواروں پر مشتمل ہیں۔ اس کے برعکس فتح کی بڑی سیاسی حریف جماعت حماس ان انتخابات میں شریک نہیں ہو رہی، اور نہ ہی اس کی کوئی باقاعدہ فہرست جمع کرائی گئی ہے، جو غزہ کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
زیادہ تر شہروں میں مقابلہ فتح کے حمایت یافتہ گروپوں اور آزاد فہرستوں کے درمیان ہے، جن میں بعض امیدوار مختلف چھوٹی سیاسی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں بائیں بازو اور نظریاتی گروہوں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں، تاہم مجموعی طور پر انتخابی مقابلہ محدود نظر آتا ہے۔
کئی شہروں میں صورتحال یہ ہے کہ صرف ایک ہی انتخابی فہرست جمع کرائی گئی ہے، جس کے باعث وہاں ووٹنگ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی اور امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو جاتے ہیں۔ رام اللہ اور نابلس جیسے اہم شہروں میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے، جس نے انتخابی عمل کی نمائندگی اور مسابقتی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
میدانی سطح پر عوام کی بڑی تعداد اس عمل کے بارے میں شدید شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہے۔ مغربی کنارے کے شمالی شہر طولکرم کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات سے عملی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے مطابق اصل اختیار مقامی حکومتوں کے بجائے بیرونی کنٹرول اور فوجی موجودگی کے پاس ہے، جس کے باعث بلدیاتی اداروں کی حیثیت محدود ہو جاتی ہے۔
طولکرم کے ایک کاروباری شخص نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امیدوار چاہے کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد حیثیت میں ہوں، عام شہریوں کی زندگیوں پر اس کا اثر نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ ان کے مطابق مقامی مسائل اور انتظامی فیصلوں پر اصل اثر مقبوضہ صورتحال اور سیکیورٹی کنٹرول کا ہوتا ہے، نہ کہ بلدیاتی نمائندوں کا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ انتخابی عمل زیادہ تر بین الاقوامی سطح پر ایک تاثر دینے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، جیسے وہاں مکمل سیاسی آزادی اور ریاستی خودمختاری موجود ہو، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ یہ رائے کئی دیگر علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے جہاں لوگ انتخابات کو علامتی عمل قرار دیتے ہیں۔
انتخابی انتظامات کے حوالے سے مختلف علاقوں میں وقت بھی مختلف رکھا گیا ہے۔ مغربی کنارے میں پولنگ اسٹیشن صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کھلے رہیں گے تاکہ ووٹرز کو پورا دن دستیاب ہو۔ تاہم غزہ کے دیر البلح علاقے میں پولنگ کا وقت نسبتاً کم رکھا گیا ہے اور شام پانچ بجے ختم کر دیا جائے گا تاکہ دن کی روشنی میں گنتی کا عمل مکمل کیا جا سکے، کیونکہ وہاں بجلی کی شدید قلت اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن نے اس پورے عمل کو انتظامی طور پر ایک مشکل مگر ضروری کوشش قرار دیا ہے، جس کا مقصد محدود حالات میں بھی انتخابی سرگرمی کو جاری رکھنا ہے۔ کمیشن کے مطابق موجودہ حالات میں شفاف اور منظم انتخابات کرانا ایک چیلنج ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس عمل کو توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک رابطہ کار نے اس انتخابی سرگرمی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ شدید مشکلات اور غیر معمولی حالات کے باوجود فلسطینیوں کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے سیاسی حق کو کسی نہ کسی حد تک استعمال کر سکیں۔
تاہم مجموعی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطہ بدستور شدید سیاسی تقسیم، جنگی اثرات اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں بلدیاتی انتخابات اگرچہ ایک رسمی جمہوری عمل ہیں، لیکن ان کی حقیقی اہمیت اور اثر پذیری موجودہ حالات کے تناظر میں محدود نظر آتی ہے۔
