متحدہ عرب امارات نے اپنی صنعتی معیشت کو مزید مستحکم اور خود کفیل بنانے کے لیے ایک اہم مالی قدم اٹھایا ہے جس کے تحت ایک ارب درہم کے بڑے فنڈ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف صنعتی پیداوار کو فروغ دینا ہے بلکہ مقامی سطح پر صنعتوں کی بنیاد کو مضبوط کرنا اور عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سپلائی چینز کی غیر یقینی صورتحال نے ممالک کو اپنی اندرونی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی طرف مائل کیا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق یہ فنڈ خاص طور پر ان شعبوں کے لیے مختص کیا جائے گا جو ملکی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں مقامی پیداوار کو بڑھانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور صنعتی خود مختاری حاصل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ حکومتی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتوں میں تیزی سے شامل کیا جائے تاکہ پیداواری عمل زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہو سکے۔
اسی تناظر میں مصنوعی ذہانت کو صنعتوں میں متعارف کرانے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پیداواری عمل کو خودکار بنانا، منصوبہ بندی کو بہتر کرنا اور آپریشنز کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف مصنوعات کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں مسابقت کرنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے صنعتی شعبہ روایتی طریقوں سے نکل کر جدید اور جدت پر مبنی نظام کی طرف منتقل ہوگا۔
حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ قومی مواد کے پروگرام کو بھی مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اس پروگرام کو صرف محدود اداروں تک رکھنے کے بجائے تمام وفاقی حکومتی اداروں اور قومی کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی مصنوعات اور خدمات کو ترجیح دینا ہے تاکہ ملکی صنعت کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ اس سے نہ صرف مقامی صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
متحدہ عرب امارات کی صنعتی حکمتِ عملی کا ایک بڑا ہدف یہ بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں ہزاروں اہم مصنوعات کو مکمل طور پر ملک کے اندر تیار کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً پانچ ہزار سے زائد ایسی مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس وقت بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔ ان مصنوعات کو مقامی سطح پر تیار کرنے سے نہ صرف زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ صنعتی خود کفالت کی طرف بھی ایک بڑا قدم ہوگا۔
اس تمام عمل میں نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف مراعات اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول سازگار بنایا جا سکے۔ اس طرح نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمایہ بھی صنعتی ترقی میں حصہ لے سکے گا۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر "میڈ اِن ایمریٹس 2026” کے نام سے ایک بڑے پلیٹ فارم کے قیام کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور عالمی سطح کے کاروباری رہنماؤں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے جو صنعتی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔
یہ پلیٹ فارم نہ صرف مصنوعات کی نمائش کا موقع فراہم کرے گا بلکہ مختلف صنعتوں کے درمیان روابط کو بھی مضبوط بنائے گا۔ اس کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز، جدید رجحانات اور کاروباری مواقع کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوگا۔ اس طرح یہ اقدام صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے ہٹا کر متنوع اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہے۔ صنعتی شعبے کی ترقی اس حکمتِ عملی کا ایک مرکزی حصہ ہے، جس کے ذریعے معیشت کو زیادہ مضبوط، مستحکم اور عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، یہ اقدامات اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش ہیں کہ ملک عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔ موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہاں صنعتی شعبے کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی لیے حکومت کی توجہ ایسے منصوبوں پر مرکوز ہے جو طویل مدتی فوائد فراہم کر سکیں۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مقامی صنعتوں کو فروغ دینے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ یہ کاروبار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی ترقی سے مجموعی اقتصادی استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد ایسے ماحول کی تشکیل ہے جہاں یہ کاروبار ترقی کر سکیں اور بڑے صنعتی ڈھانچے کا حصہ بن سکیں۔
ان تمام اقدامات کا مجموعی مقصد ایک ایسی مضبوط صنعتی بنیاد قائم کرنا ہے جو نہ صرف داخلی ضروریات کو پورا کرے بلکہ برآمدات کے ذریعے عالمی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکے۔ اس طرح متحدہ عرب امارات ایک جدید، متنوع اور خود کفیل معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ترقی کا نیا باب رقم کر رہے ہیں۔
