اداکارہ اور ماڈل دانیانر مبین نے حال ہی میں اپنی جلد (ایکنی) کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں عوام، مداحوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی حاصل ہو رہی ہے۔ ان کی یہ پوسٹ خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بنی کیونکہ انہوں نے عام طور پر نظر آنے والی پرفیکٹ تصاویر اور اصل زندگی کی حقیقت کے درمیان واضح فرق دکھایا۔
انہوں نے انسٹاگرام پر ایک کیروسل پوسٹ شیئر کی جس میں دو مختلف مناظر پیش کیے گئے۔ ایک طرف ان کی ایسی تصاویر تھیں جن میں وہ میک اپ، پروفیشنل لائٹنگ اور ایڈیٹنگ کے ساتھ مکمل طور پر گلیمرس نظر آ رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف ان کی بغیر میک اپ اصل تصاویر تھیں جن میں جلد پر ایکنی اور دانے واضح نظر آ رہے تھے۔ اس فرق کو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی۔
ہر تصویر کے ساتھ انہوں نے وضاحتی کیپشن بھی دیا۔ ایک حصے میں انہوں نے لکھا کہ “ایسی جلد جو اس طرح نظر آتی ہے”، جبکہ اگلے حصے میں انہوں نے بتایا کہ یہی جلد کبھی کبھی “اس طرح بھی نظر آ سکتی ہے”۔ اس انداز نے ان کے پیغام کو مزید واضح اور مؤثر بنا دیا۔
اپنی پوسٹ کے کیپشن میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ نرمی اور مہربانی کا رویہ اپنائیں۔ انہوں نے لکھا کہ صرف ایک جملہ “براہِ کرم تھوڑا مہربان بنیں” بھی بہت معنی رکھتا ہے اور اس کی ضرورت آج کے دور میں پہلے سے زیادہ ہے۔
انہوں نے اپنی جلد کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے چند مہینوں میں ان کی جلد کو کافی مشکلات کا سامنا رہا۔ مسلسل شوٹنگز، اسٹیج لائٹس، روزانہ میک اپ کا استعمال، غلط ٹریٹمنٹس اور عمر کے اس حصے میں ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے ان کی جلد متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق ان تمام عوامل نے مل کر ان کی جلد کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ابتدا میں “گلاس اسکن” جیسی صورت حال سے نکل کر ایکنی اور شدید دانوں تک نوبت پہنچی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ یہ ایک مشکل وقت تھا لیکن اب ان کی جلد آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں امید اور بہتری کا پہلو بھی شامل تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی تصاویر ہمیشہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔ اکثر تصاویر فلٹرز یا پروفیشنل ایڈیٹنگ کے ذریعے بہتر بنا دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں میں غیر حقیقی توقعات پیدا ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بھی ایک انسان ہیں اور ہر انسان کی طرح ان کے بھی اچھے اور مشکل دن ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ آن لائن تنقید اور لوگوں کے تبصرے بعض اوقات بہت سخت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان نوجوان خواتین کے لیے جو شوبز کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر تصویر کے پیچھے ایک حقیقی انسان موجود ہوتا ہے جس کے جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے ایک بار پھر لوگوں سے اپیل کی کہ معاشرے میں زیادہ ہمدردی اور نرمی پیدا کی جائے کیونکہ چھوٹی سی مہربانی بھی کسی کی زندگی میں بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔
ان کی یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی۔ بہت سے لوگوں نے ان کی اس ایمانداری کو سراہا اور کہا کہ ایک مشہور شخصیت کا اس طرح کھل کر بات کرنا معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر ان مسائل کے حوالے سے جنہیں اکثر چھپایا جاتا ہے۔
دانیانر مبین کو 2021 میں اس وقت شہرت ملی جب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے “پاوری ہو رہی ہے” کا جملہ کہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا اور کئی ڈراموں میں کام کیا جن میں “سِنفِ آہن” اور “میم سے محبت” شامل ہیں۔
