غزہ میں جاری جنگی صورتحال نے نہ صرف انسانی بحران کو شدید تر کر دیا ہے بلکہ صحت کے شعبے کو بھی بے مثال تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں اسرائیل میں قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک اہم قانونی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے، جس میں غزہ سے تعلق رکھنے والے متعدد فلسطینی ڈاکٹروں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس درخواست نے ایک بار پھر جنگ کے دوران طبی عملے کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
درخواست گزار تنظیم کا مؤقف ہے کہ زیر حراست فلسطینی ڈاکٹر طویل عرصے سے بغیر کسی باضابطہ فردِ جرم کے قید میں رکھے گئے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق کم از کم چودہ ڈاکٹر ایک سال سے زائد عرصے سے ایسے حالات میں قید ہیں جہاں انہیں نہ تو مناسب خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی ضروری طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ان افراد کو جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی۔
یہ گرفتاریاں ایک ایسے قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں جس کے مطابق کسی بھی شخص کو "غیر قانونی جنگجو” قرار دے کر غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے، چاہے اس کے خلاف واضح شواہد موجود نہ ہوں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال شفاف عدالتی عمل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اس کے تحت ملزمان کو اپنے دفاع کا مناسب موقع بھی نہیں ملتا۔
ان زیر حراست افراد میں ایک نمایاں نام غزہ کے ایک بڑے ہسپتال کے سربراہ کا بھی ہے، جن کی گرفتاری عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کے دوران نہ تو ان کے خلاف کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی جرم میں ملوث ثابت کیا جا سکا۔ اس کے باوجود استغاثہ نے انہیں اسی متنازع قانون کے تحت قید رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا، جسے وکیل نے انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔
ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قید کے دوران ان کی جسمانی حالت بری طرح متاثر ہوئی، وزن میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی اور انہیں متعدد طبی مسائل لاحق ہو گئے، جن میں ہڈیوں کے فریکچر بھی شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک صرف اس لیے روا رکھا گیا کیونکہ انہوں نے جنگ کے دوران اپنے ہسپتال اور مریضوں کو چھوڑنے سے انکار کیا تھا۔
دوسری طرف اسرائیلی حکام ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہیں کی جا رہی۔ تاہم جب مخصوص کیسز کے بارے میں سوال کیا گیا تو حکام نے تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا اور بعض معاملات میں مزید معلومات کے لیے شناختی تفصیلات طلب کیں۔ اس ردعمل نے ناقدین کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ شفافیت کا فقدان خود ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
یہ معاملہ صرف چند ڈاکٹروں تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنگ کے آغاز کے بعد سے سینکڑوں طبی کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق صحت کے شعبے سے وابستہ تقریباً چار سو افراد کو مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعد ازاں قیدیوں کے تبادلے کے دوران رہا بھی کیا گیا۔ تاہم اب بھی درجنوں ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ زیر حراست ہیں، جن کے خلاف کوئی واضح قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
ان گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ غزہ کے صحت کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ متعدد ہسپتالوں پر چھاپے اور بمباری کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں طبی سہولیات کا ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی ہو سکتے ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران طبی مراکز کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
ایک انسانی حقوق کے نمائندے نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صحت کے نظام کو کمزور کرنا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق جب ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی عملہ خود غیر محفوظ ہو جائیں تو پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی مؤقف یہ ہے کہ بعض مسلح گروہ ہسپتالوں اور طبی مراکز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے، جس کے باعث فوجی کارروائیاں ناگزیر ہوئیں۔ تاہم اس دعوے کو فلسطینی حکام اور متعلقہ گروہوں نے مسترد کر دیا ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
جنگ کے دوران ہونے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار بھی نہایت تشویشناک ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں صحت کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر معاون عملہ شامل ہے۔ ان ہلاکتوں نے پہلے سے کمزور صحت کے نظام کو مزید تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
اسی پس منظر میں اسرائیلی عدالت میں دائر کی گئی حالیہ درخواست کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف زیر حراست ڈاکٹروں کے حقوق کے حوالے سے آواز اٹھاتی ہے بلکہ وسیع تر سطح پر جنگ کے دوران انسانی حقوق کی پاسداری کے سوال کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس معاملے پر کب اور کس نوعیت کا فیصلہ دیتی ہے، اور آیا یہ اقدام متاثرہ افراد کے لیے کسی عملی تبدیلی کا باعث بنتا ہے یا نہیں۔
