کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں رات گئے معمول کی پولیس چیکنگ اس وقت ایک ہائی پروفائل تنازع میں تبدیل ہو گئی جب ایک پولیس افسر اور ایک اعلیٰ پولیس افسر کے بیٹے کے درمیان تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ یہ واقعہ بعد میں گرفتاری، سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے وائرل ہونے اور باضابطہ انکوائری کے آغاز کا سبب بن گیا۔
یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب فیز سیون میں اس وقت پیش آیا جب پولیس کی ٹیمیں اسنیپ چیکنگ کے دوران گاڑیوں کی تلاشی لے رہی تھیں۔ اسی دوران ایک ڈبل کیبن گاڑی کو روکا گیا جس پر پولیس طرز کی لائٹس لگی ہوئی تھیں اور اس کی نمبر پلیٹ بھی مشکوک یا جعلی قرار دی گئی۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران ہی صورتحال کشیدہ ہو گئی اور پولیس اہلکاروں اور گاڑی میں موجود افراد کے درمیان سخت بحث شروع ہو گئی۔
گاڑی چلانے والے شخص کی شناخت بعد میں خبیب کے نام سے ہوئی جو سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نسیم آرا پنہور کا بیٹا بتایا گیا۔ ان کا سامنا سب انسپکٹر شہباز شیخیل سے ہوا جو قاسم آباد پولیس پوسٹ کے انچارج تھے۔ ابتدائی طور پر معمول کی چیکنگ کے دوران شروع ہونے والا معاملہ جلد ہی تلخ کلامی اور پھر ہاتھا پائی کے قریب پہنچ گیا۔
واقعے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن میں دونوں فریقین کے الگ الگ مؤقف دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی فوٹیج میں اہلکار یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ نوجوان نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ مبینہ طور پر ان کی کالر بھی پکڑی۔ اہلکار بار بار اسے قانون کا احترام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی کو بھی اپنی حیثیت کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسری طرف ایک اور ویڈیو، جو مبینہ طور پر گاڑی کے ڈرائیور نے ریکارڈ کی، میں پولیس افسر سخت لہجے میں جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ ایس ایس پی کا بیٹا ہونے کا کوئی خاص امتیاز نہیں، اور وہ خود بھی اسی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ جذباتی اور کشیدہ صورتحال میں تبدیل ہو چکا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خبیب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ان پر سرکاری کام میں مداخلت، جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال، پولیس طرز کی غیر مجاز گاڑی کے فٹنگز، اور بدتمیزی سمیت متعدد دفعات شامل کی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق گاڑی میں کالے شیشے اور ایمرجنسی لائٹس بھی غیر قانونی طور پر نصب تھیں، جو اس کی مشکوک حیثیت کو مزید بڑھا رہی تھیں۔
ابتدائی رپورٹ یعنی ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کی والدہ بھی پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ مزید الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھ موجود مسلح افراد کو حکم دیا کہ وہ پولیس اہلکار کو پیچھے دھکیل دیں۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ گرفتاری کی کوشش کے دوران اس نے اہلکار کی کالر پکڑی، نازیبا زبان استعمال کی اور موقع سے فرار ہو گیا۔
تاہم دوسری جانب ملزم کے والد علی انور نے واقعے کا ایک مختلف مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ خود تھانے گئے جہاں متعلقہ پولیس افسر نے معذرت کی۔ ان کے مطابق خاندان نے مکمل تعاون کیا اور گاڑی بھی پولیس کے حوالے کر دی گئی، لیکن صورتحال اس وقت بدل گئی جب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے باضابطہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ جنوبی پولیس کے ایس ایس پی نے کلِفٹن کے ایس پی خالد جاوید کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے جو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے۔ انکوائری میں تمام فریقین کے رویے، پولیس اہلکاروں کی کارروائی اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
