امریکی عسکری حکام نے پیر کے روز واضح کیا کہ خطے میں تعینات امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز کسی حملے کا نشانہ نہیں بنا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اس سے قبل ایران کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو اپنی پیش قدمی روکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کسی کارروائی کا کوئی ثبوت موجود نہیں، اور نہ ہی کسی امریکی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب ایرانی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک غیر ملکی جنگی جہاز کو سخت وارننگ جاری کی، جس کے بعد وہ جہاز علاقے میں داخل ہونے سے رک گیا۔ ایرانی حکام نے اپنے بیان میں اس کارروائی کو “فوری اور فیصلہ کن ردعمل” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے اقدامات نے علاقے میں کسی بھی ممکنہ دراندازی کو روک دیا۔ ایران کی سرکاری مؤقف کے مطابق اس حساس سمندری گزرگاہ کی سیکیورٹی ان کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی بیرونی طاقت کو یہاں آزادانہ طور پر سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی میڈیا، خاص طور پر نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس، نے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے جنوبی داخلی مقام پر واقع جاسک بندرگاہ کے قریب ایک جنگی جہاز پر دو میزائل داغے گئے۔ اس مقام پر ایرانی بحریہ کا ایک اہم فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ تاہم ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے اس خبر کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے بعض نمائندوں نے بھی اس خبر کی تصدیق کی کوشش کی، مگر آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔
اس تمام صورتحال کے پس منظر میں خلیج کے خطے میں جاری کشیدگی ہے، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ امریکی صدر نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ امریکہ خلیجی پانیوں میں موجود ان جہازوں کی مدد کرے گا جو جاری تنازعے کے باعث وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی کمی کا سامنا ہے، کیونکہ کشیدگی کے باعث ان کی نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے۔
صدر کے مطابق امریکی بحریہ ان جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گی تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی تجارت اور بحری نقل و حمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکہ ان کے جہازوں کی رہنمائی کرے گا تاکہ وہ خطرناک علاقوں سے بحفاظت گزر سکیں۔
ایران نے اس اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا کہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے آبنائے ہرمز میں یکطرفہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی افواج کی متحدہ کمان کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اہم آبی راستے کی نگرانی اور حفاظت مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، اور تمام تجارتی جہازوں کو چاہیے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی قائم رکھیں۔
ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی بھی غیر ملکی فوج، خاص طور پر امریکہ، اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
ادھر امریکی مرکزی کمان نے اپنی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی وسائل تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں ہزاروں فوجی اہلکار، درجنوں طیارے، جنگی جہاز اور بغیر پائلٹ کے ڈرون شامل ہیں۔ ان وسائل کا مقصد نہ صرف امدادی مشنز کو یقینی بنانا ہے بلکہ خطے میں استحکام برقرار رکھنا بھی ہے۔
امریکی عسکری قیادت کے مطابق یہ اقدامات عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے امریکہ اس علاقے میں اپنی موجودگی کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بعض بندرگاہی سرگرمیوں کو محدود کر رہے ہیں، جسے بعض تجزیہ کار غیر رسمی ناکہ بندی قرار دیتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اس کی علاقائی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے بیانات اور اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ عالمی تجارت کے تحفظ کا مؤقف پیش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی علاقائی خودمختاری پر زور دے رہا ہے۔ اس کشمکش نے نہ صرف عسکری تناؤ کو بڑھایا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی سپلائی لائن کا ایک اہم حصہ ہے، اس وقت جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی جھڑپ یا تصادم نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔
