سعودی عرب میں حج 1447ھ کے لیے تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں، اور اس سلسلے میں نقل و حمل کے نظام کو غیر معمولی حد تک بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ لاکھوں حجاج کرام کو سہولت، تحفظ اور تیز رفتار سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اسی تناظر میں سعودی ریلوے کمپنی “سار” نے اعلان کیا ہے کہ رواں حج سیزن کے دوران حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کی مجموعی آپریشنل گنجائش میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نشستوں کی تعداد بڑھا کر 21 لاکھ 10 ہزار سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے۔
یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی حکام حجاج کرام کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی سفری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور مؤثر حل فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کرنے والے زائرین کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے، جس کے باعث اس ریلوے سروس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی لیے اس سال گنجائش میں اضافہ نہ صرف ایک تکنیکی پیش رفت ہے بلکہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ بھی ہے جس کا مقصد حجاج کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال نشستوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دو لاکھ دس ہزار سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر پانچ ہزار تین سو آٹھ ٹرین سروسز چلائی جائیں گی۔ یہ اضافہ تقریباً گیارہ فیصد بنتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریلوے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ رش کے اوقات میں روزانہ چلنے والی ٹرینوں کی تعداد 142 سے تجاوز کر جائے گی، جس سے نہ صرف مسافروں کے لیے انتظار کا وقت کم ہوگا بلکہ سفر زیادہ منظم اور آرام دہ بھی بنے گا۔
حج کے دوران اس جدید ریلوے نظام کے عملی استعمال کا آغاز منگل، 5 مئی سے ہوگا، جب پہلی مرتبہ حجاج کرام کو باضابطہ طور پر تیز رفتار ٹرین کے ذریعے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسٹیشن سے مکہ مکرمہ منتقل کیا جائے گا۔ یہ مرحلہ دراصل حجاج کی نقل و حرکت کے ایک منظم اور مربوط نظام کی ابتدا ہے، جس کے ذریعے ان کے سفر کو زیادہ سہل اور تیز بنایا جائے گا۔
حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے نہ صرف مکہ اور مدینہ کے درمیان بلکہ دیگر اہم شہروں کو بھی آپس میں جوڑتا ہے۔ اس کا نیٹ ورک پانچ بڑے اسٹیشنز پر مشتمل ہے، جن میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ کا مرکزی السلیمانیہ اسٹیشن، کنگ عبداللہ اکنامک سٹی اور کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔ اس وسیع نیٹ ورک کے ذریعے مختلف مقامات کے درمیان سفر انتہائی آسان ہو گیا ہے، اور حجاج کرام کو ایک مربوط اور مؤثر ٹرانسپورٹ سسٹم میسر آ رہا ہے۔
اس ریلوے نظام کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی رفتار ہے۔ یہ ٹرین تقریباً 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، جس کی بدولت مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ صرف دو گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ 453 کلومیٹر طویل اس روٹ پر سفر نہایت آرام دہ اور محفوظ ہوتا ہے، جو اسے دنیا کی تیز ترین مسافر ٹرینوں میں شامل کرتا ہے۔
مزید برآں، اس ٹرین سروس کو ماحول دوست بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ نظام کاربن کے اخراج سے پاک ہے، جس کے باعث یہ نہ صرف جدید بلکہ پائیدار ٹرانسپورٹ کا ایک بہترین نمونہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوتا ہے، حادثات کے امکانات گھٹتے ہیں اور مجموعی طور پر سفر کی حفاظت میں اضافہ ہوتا ہے۔
قطارِ حرمین کے بیڑے میں اس وقت 35 جدید ٹرینیں شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 417 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان ٹرینوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ آرام اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ کشادہ نشستیں، جدید سہولیات اور وقت کی پابندی اس سروس کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات دراصل سعودی ریلوے کمپنی “سار” کے اس بڑے کردار کا حصہ ہیں، جو وہ مملکت کے جدید ٹرانسپورٹ نظام کی تشکیل میں ادا کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف حج کے دوران بلکہ سال بھر زائرین اور مسافروں کو فائدہ پہنچاتا ہے، اور سعودی عرب کے انفراسٹرکچر کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس جدید ریلوے نظام کا بنیادی مقصد ضیوف الرحمان، یعنی اللہ کے مہمانوں، کو ایک محفوظ، تیز اور منظم سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے حجاج کے سفر کو ان کی آمد سے لے کر مناسک کی ادائیگی تک ہر مرحلے پر آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کی قومی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک حکمت عملی کے عین مطابق ہے، جو وژن 2030 کے اہداف کے تحت ملک کو ایک عالمی لاجسٹک حب بنانے کی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔
یوں حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے نہ صرف ایک ٹرانسپورٹ سروس ہے بلکہ ایک جامع وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید سہولیات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے حجاج کرام کو ایک مثالی سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔
