راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دائر درخواست کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور درخواست گزار پر جرمانہ بھی عائد کیا۔
تفصیلات کے مطابق وکیل فیصل ملک نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ مقدمہ کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کی درخواست دی تھی، جسے عدالت نے ناقابلِ سماعت قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے طے کیا جا چکا ہے، اس لیے ماتحت عدالت اس کے برعکس کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں اور زیرِ حراست نہیں، لہٰذا اس نوعیت کی درخواست بے جا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ یہ رقم ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپنسری میں جمع کروائی جائے، جہاں اسے نادار مریضوں کے علاج پر خرچ کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی درخواستیں پہلے بھی دائر کی جا چکی ہیں اور درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے بجائے عدالت کا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہے۔

Add A Comment