امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آمنے سامنے بیٹھ کر امن مذاکرات کے بارے میں سوچنا ابھی قبل ازوقت ہے۔
ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے کی تیاری کرنا فی الحال مناسب نہیں، کیونکہ حالات ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے مجوزہ معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکا بڑے پیمانے پر حملے کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند ہو جائے تو امریکی فوجی کارروائیاں فوری طور پر ختم کر دی جائیں گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام ممالک کے لیے کھول دیا جائے گا تاکہ عالمی تجارت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ مسترد کیا تو اس کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور طاقتور حملے کیے جائیں گے۔
ادھر امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی فارمولے پر غور جاری ہے، تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کے فیصلے پر ہوگا۔
