ایشیا کپ 2025 کے حوالے سے متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کا بخار عروج پر ہے۔ شائقین پاکستان اور بھارت کے درمیان سنسنی خیز مقابلوں کے لیے پرجوش ہیں جبکہ امارات کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بھارت کے بائیکاٹ کرنے کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ اس مؤقف نے مداحوں کو خاصی حد تک تسلی دی ہے جو طویل عرصے سے روایتی حریفوں کے درمیان میچز کے منتظر ہیں۔
ایشیا کپ نو ستمبر سے شروع ہو کر 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس ٹورنامنٹ سے قبل پاکستانی ٹیم افغانستان اور یو اے ای کے ساتھ سہ ملکی سیریز بھی کھیلے گی، جو شارجہ میں شیڈول ہے۔ شارجہ حکام نے ہدایت دی ہے کہ پاک افغان شائقین کو علیحدہ علیحدہ بیٹھایا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے، لیکن ایشیا کپ کے میچوں میں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ان کا انعقاد دبئی اور ابوظہبی میں ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کا پہلا ٹکراؤ 14 ستمبر کو متوقع ہے جبکہ دوسرا میچ 21 ستمبر کو ہوسکتا ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک پہنچتی ہیں تو شائقین کو تیسری بار روایتی حریفوں کے ٹکراؤ کا موقع مل سکتا ہے۔ امارات کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے مطابق، تیاریاں مکمل ہیں اور شائقین کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام ٹیموں نے اپنی اپنی حکومتوں کی اجازت سے ہی ایشیا کپ میں شرکت کی تصدیق کی تھی، لہٰذا کسی بھی ٹیم کے بائیکاٹ کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے لیکن امید ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان کے خلاف ضرور کھیلے گی، شائقین کی جانب سے بھی کسی بائیکاٹ کا اندیشہ نہیں۔ پچھلے ایونٹس میں بھی تماشائیوں نے سیاست کو کھیل سے الگ رکھا اور اسی جذبے کے ساتھ اب بھی میدان بھریں گے۔”
مداحوں کی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی سے ٹکٹس کے حصول کے لیے بحث و مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعل ساز گروہ بھی سرگرم ہوگئے اور آن لائن جعلی ٹکٹس فروخت کرنے لگے۔ اس پر ایشین کرکٹ کونسل اور امارات کرکٹ بورڈ نے مشترکہ طور پر سوشل میڈیا پر الرٹ جاری کیا کہ "ٹکٹس کی باضابطہ فروخت ابھی شروع نہیں ہوئی، لہٰذا جعلی ویب سائٹس اور دکانداروں سے بچیں۔”
سبحان احمد نے بتایا کہ باضابطہ ٹکٹس کی فروخت کے لیے ایک معروف ٹکٹنگ ایجنسی سے مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ چند روز میں مداح آن لائن ٹکٹس خرید سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کو مناسب رکھنے کی پوری کوشش ہوگی تاکہ ہر طبقے کے شائقین اس کھیل سے لطف اندوز ہوسکیں۔
ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ دبئی میں پاک بھارت شائقین کے لیے علیحدہ اسٹینڈز رکھنے کا کوئی منصوبہ نہیں، بلکہ سب تماشائی ایک ساتھ بیٹھ کر کھیل سے لطف اندوز ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ کرکٹ کھیل کے ذریعے لوگوں کو قریب لائے، تقسیم پیدا نہ کرے۔”
ایشیا کپ کی افتتاحی تقریب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی شاندار شو کا اہتمام نہیں ہوگا بلکہ ایک سادہ اور پروفیشنل انداز میں ٹورنامنٹ کا آغاز کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں، آفیشلز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم شائقین حسبِ معمول طریقہ کار کے مطابق یو اے ای کا ویزا حاصل کرسکیں گے۔
یوں ایشیا کپ 2025 نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے بڑے جوش و خروش کا باعث ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ مقابلے عالمی توجہ کا مرکز بھی بن چکے ہیں۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں آمنے سامنے آئیں تو یہ ایونٹ شائقین کے لیے تاریخ ساز یادگار بن سکتا ہے۔
