پاکستان کرکٹ میں ایک بڑے ہلچل پیدا کرنے والے فیصلے کے بعد مکی آرتھر کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی 2025 کے لیے پاکستان اسکواڈ کے اعلان میں جب بابراعظم اور محمد رضوان کے نام شامل نہ کیے گئے تو شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کوچ اور ڈائریکٹر مکی آرتھر بھی حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ غیر متوقع اور ناقابلِ یقین ہے کیونکہ یہ دونوں کھلاڑی برسوں سے پاکستان کی بیٹنگ ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔
آرتھر کے مطابق بابر اور رضوان نہ صرف بہترین اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ رنز بنانے والے بیٹرز ہیں بلکہ مشکل وقت میں ٹیم کو سہارا دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان دونوں کے بغیر بیٹنگ لائن میں خلا پیدا ہو جائے گا اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہے اور اس مرحلے پر نئے کمبی نیشن آزمانا رسک سے خالی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم نے گزشتہ برسوں میں اپنی کارکردگی سے خود کو دنیا کے بہترین بلے بازوں میں منوایا ہے جبکہ محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں سب سے زیادہ مستقل مزاج کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آرتھر کا خیال ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے سے ٹیم پر نفسیاتی دباؤ بھی بڑھے گا اور مخالف ٹیمیں بھی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
شائقین کرکٹ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر ایسے کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھا گیا جو کئی برسوں تک پاکستان کے لیے میچ ونر ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کرکٹ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ٹیم منیجمنٹ پر دباؤ بڑھے گا کیونکہ اگر کارکردگی توقعات کے مطابق نہ ہوئی تو سب سے زیادہ سوال انہی انتخابی پالیسیوں پر اٹھیں گے۔
مکی آرتھر نے آخر میں کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ پاکستان ٹیم ایونٹ میں اچھا کھیل پیش کرے گی لیکن اس کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو غیر معمولی کارکردگی دکھانی ہوگی تاکہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی غیر موجودگی کو محسوس نہ ہونے دیا جائے۔
