دنیا بھر کے باکسنگ شائقین کے لیے ایک ایسا اعلان سامنے آیا ہے جس کی شاید کسی نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ عالمی شہرت یافتہ باکسنگ لیجنڈز مائیک ٹائسن اور فلائیڈ میویدر جونیئر اگلے سال یعنی 2026 میں ایک دوسرے کے مدمقابل رنگ میں اتریں گے۔ یہ اعلان جمعرات کے روز امریکی شہر نیویارک میں سامنے آیا جس نے کھیلوں کے حلقوں میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مائیک ٹائسن ماضی میں ہیوی ویٹ ڈویژن کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں جبکہ فلائیڈ میویدر جونیئر نے اپنے کریئر میں پانچ مختلف وزن کے درجوں میں عالمی اعزازات جیت کر اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ دونوں کھلاڑیوں کا پس منظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ میویدر کبھی بھی 154 پاؤنڈ کے جونیئر مڈل ویٹ سے اوپر نہیں لڑے جبکہ ٹائسن کا پورا کیریئر ہیوی ویٹ کی بنیاد پر رہا۔ اسی تضاد کی وجہ سے شائقین یہ مقابلہ مزید تجسس کے ساتھ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
مائیک ٹائسن جو اگلے برس 60 برس کے ہوجائیں گے، حال ہی میں جیک پال کے خلاف ہونے والے ایک نمائشی مقابلے میں شکست کا سامنا کرچکے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک بار پھر رنگ میں واپسی پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "جب مجھے بتایا گیا کہ میویدر اس مقابلے کے لیے رضامند ہیں تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میں نے سوچا یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکتا، لیکن آج یہ حقیقت بن گیا ہے۔” ٹائسن نے مزید کہا کہ "مجھے لگتا ہے یہ میویدر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، لیکن چونکہ وہ خود تیار ہیں، تو اب یہ مقابلہ یقینی طور پر ہونے جا رہا ہے۔”
دوسری جانب فلائیڈ میویدر جونیئر، جن کی عمر اس وقت 48 برس ہے اور جو اپنے کریئر میں ناقابل شکست رہے ہیں، اس مقابلے کو اپنے شائقین کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں نے ہمیشہ بڑے اور تاریخی مقابلے کیے ہیں۔ باکسنگ کی دنیا میں میرا نام اور میری کامیابیاں کبھی ماند نہیں پڑ سکتیں۔ یہ نمائشی میچ بھی شائقین کو وہی دے گا جس کا وہ انتظار کرتے ہیں، یعنی ایک یادگار اور دلچسپ لمحہ۔”
فلائیڈ میویدر کی کامیابیوں پر نظر ڈالیں تو ان کی آخری بڑی باضابطہ فائٹ 2017 میں یو ایف سی کے اسٹار کانر مک گریگر کے خلاف تھی، جو نہ صرف یادگار رہی بلکہ باکسنگ کی تاریخ کے سب سے زیادہ منافع بخش مقابلوں میں شمار ہوئی۔ اس سے قبل وہ مینی پیکاؤ اور کینیلو الواریز جیسے بڑے ناموں کو بھی شکست دے چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار باکسنگ کے سب سے کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔
ادھر مائیک ٹائسن کی شخصیت اور ان کے کریئر کے نشیب و فراز نے بھی انہیں کھیلوں کی دنیا کا ایک منفرد کردار بنایا ہے۔ وہ کبھی خطرناک پنچز کے لیے پہچانے جاتے تھے اور اب عمر کے اس حصے میں دوبارہ رنگ میں اترنے کا فیصلہ شائقین کے لیے حیران کن اور دلچسپ دونوں ہے۔
یہ نمائشی مقابلہ سی ایس آئی اسپورٹس کے تعاون سے منعقد ہوگا، جو اس موقع پر ایک نئی میڈیا اسٹریمِنگ اور نشریاتی شراکت داری بھی متعارف کروا رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک مقام اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اس خبر نے دنیا بھر کے شائقین کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔
باکسنگ اب ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے، جہاں غیر متوقع اور حیران کن مقابلے ہی اصل توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ مائیک ٹائسن اور فلائیڈ میویدر جونیئر کا آمنا سامنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو شاید کھیل کے چاہنے والوں کو آنے والے برسوں تک یاد رہے گا۔
