تین ملکی کرکٹ سیریز کے آخری لیگ میچ میں افغانستان نے متحدہ عرب امارات کو شکست دے کر اپنی برتری ثابت کردی۔ میچ کا نتیجہ محض چار رنز کے فرق سے طے ہوا، لیکن اس قریبی مقابلے نے شائقین کو مکمل طور پر محظوظ کیا۔
یہ میچ ٹورنامنٹ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس کے بعد ہی یہ طے ہونا تھا کہ فائنل میں کون سی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی اننگز کا آغاز پُر اعتماد انداز میں کیا۔ ان کے بلے بازوں نے ایک متوازن اور جارحانہ کھیل پیش کیا، جس کے نتیجے میں مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز کا ایک معقول ہدف کھڑا کیا۔
اس دوران ابراہیم زادران نے 48 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ رحمان اللہ گرباز نے 40 رنز بنا کر ٹیم کے اسکور کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یو اے ای کی جانب سے سب سے نمایاں کارکردگی حیدر علی نے دکھائی جنہوں نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
جب امارات کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں اتری تو شائقین کو امید تھی کہ شاید میزبان ٹیم پہلی فتح اپنے نام کرلے گی۔ اننگز کے آغاز میں اماراتی بلے بازوں نے اچھی مزاحمت دکھائی۔ محمد وسیم نے 44 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ آصف خان نے بھی 40 رنز کا عمدہ اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ علی شان شرفو نے 27 رنز بنا کر ٹیم کو قریب لانے کی کوشش کی۔ لیکن جب میچ فیصلہ کن موڑ پر پہنچا تو افغان باؤلرز نے نپی تلی باؤلنگ کے ذریعے امارات کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مقررہ اوورز میں اماراتی ٹیم پانچ وکٹوں پر صرف 166 رنز ہی بنا سکی اور چار رنز کے فرق سے شکست کھا بیٹھی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یو اے ای کی ٹیم پورے ایونٹ میں کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ انہوں نے اپنے تمام چار میچوں میں شکست کا منہ دیکھا، جس نے ان کے شائقین کو مایوس کیا۔ دوسری جانب افغانستان نے اپنی شاندار کارکردگی سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ فائنل کے لیے مضبوط دعویدار ہیں۔
اب ٹورنامنٹ ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ فائنل اتوار کے روز کھیلا جائے گا جس میں پاکستان اور افغانستان آمنے سامنے ہوں گے۔ شائقین کی نظریں اب اس بڑے میچ پر مرکوز ہیں کیونکہ دونوں ٹیمیں اپنی بہترین فارم میں نظر آ رہی ہیں۔ ایک طرف افغانستان کی بیٹنگ لائن ہے جو پُراعتماد دکھائی دے رہی ہے، تو دوسری طرف پاکستان کی ٹیم ہے جس نے پورے ایونٹ میں شاندار کھیل پیش کیا ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر کرکٹ کے شائقین کے لیے یادگار لمحہ ثابت ہوگا۔
