ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں کھیلے جانے والے چوتھے گیٹ وے انٹرنیشنل اسکریبل ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ایک تاریخی کامیابی اپنے نام کی۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس بڑے ایونٹ میں پاکستان نے تمام ٹرافیز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کردی اور دنیا کو یہ باور کروا دیا کہ اب عالمی سطح پر اسکریبل میں پاکستان ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
اس ٹورنامنٹ میں دنیا کے نو ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 80 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان کھلاڑیوں میں تھائی لینڈ کے مشہور پلیئر اور عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود تھاچا کو ویرات بھی شامل تھے، جنہیں ایونٹ کا مضبوط ترین امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، بہتر حکمتِ عملی اور پُراعتماد انداز سے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ سب کو حیران کر دیا۔
سینئر کیٹیگری میں پاکستان کے سابق ایشین یوتھ چیمپئن حشام ہادی خان سب پر بازی لے گئے۔ انہوں نے کمال مہارت کے ساتھ 24 میں سے 17 میچز اپنے نام کیے اور 1190 کے اسپریڈ کے ساتھ فاتح قرار پائے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ذاتی طور پر ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ اس نے پاکستان کو عالمی سطح پر مزید فخر کا موقع فراہم کیا۔ دوسری جانب محض 14 سال کی عمر کے احمد سلمان نے اپنی عمر سے کہیں بڑھ کر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرا نمبر حاصل کیا، جو اس کھیل میں اُن کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ سابق ورلڈ یوتھ چیمپئن عفان سلمان نے بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے تیسری پوزیشن اپنے نام کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس اسکریبل میں تجربہ اور نوجوان ٹیلنٹ دونوں موجود ہیں۔
یوتھ کیٹیگری بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہی۔ یہاں مصباح الرحمٰن نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ شاہ جہاں احمد نے دوسری پوزیشن اور مصعب فریدی نے ساتویں نمبر پر جگہ بنائی۔ یوں پاکستان نے نوجوان سطح پر بھی اپنی اجارہ داری ثابت کی۔
پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن نے ہمیشہ اس کھیل کو ملک بھر میں فروغ دینے اور نوجوانوں کی ذہانت کو عالمی سطح پر منوانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد یہ بات مزید واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے بہترین اسکریبل پلیئرز میں شمار ہونے لگے ہیں۔ عالمی تجزیہ کار بھی اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان کے اسکریبل اسٹارز مستقبل قریب میں عالمی چیمپئن شپس میں مزید بڑے اعزازات اپنے نام کریں گے۔
یہ فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہنی کھیلوں میں پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتیں کسی سے کم نہیں۔ جس طرح پاکستانی کرکٹرز گراؤنڈ میں اپنی کارکردگی کے ذریعے دنیا کو متاثر کرتے ہیں، اسی طرح اسکریبل کے پلیئرز نے بورڈ پر اپنے حروف کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس شاندار جیت نے نہ صرف پاکستان کا پرچم ایک بار پھر بلند کیا بلکہ ملک میں کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی امید اور جوش بھی پیدا کر دیا ہے۔
