کراچی کے ڈیفنس اتھارٹی کنٹری اینڈ گالف کلب میں چار دن تک جاری رہنے والی 64ویں پاکستان ایمیچور گالف چیمپئن شپ کا اختتام ایک یادگار اور دلچسپ جیت کے ساتھ ہوا۔ یہ ٹورنامنٹ ملک کے سب سے پرانے اور معتبر گالف مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہاں ملک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا۔ اس بار تو کھیل کا نتیجہ سب کی توقعات کے برعکس نکلا کیونکہ شروع کے دنوں میں پیچھے رہنے والے کھلاڑی سعد حبیب نے حیران کن کم بیک کرتے ہوئے سب کو پیچھے چھوڑ دیا اور چیمپئن بن گئے۔
سعد حبیب کی جیت اس لیے بھی خاص تھی کہ تیسرے دن تک وہ ٹاپ پوزیشن پر نہیں تھے، یہاں تک کہ پہلی پانچ پوزیشنز میں بھی ان کا نام شامل نہیں تھا۔ آخری دن کے آغاز پر بھی صورتحال ان کے حق میں نظر نہیں آ رہی تھی کیونکہ کھیل کے شروع میں انہوں نے دو بار بوگی کھیل لی تھی۔ عام طور پر اس طرح کی صورتحال میں کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں، لیکن سعد نے ہمت نہ ہاری اور شاندار انداز میں کھیل کا رخ بدل دیا۔ خاص طور پر چھٹے، دسویں، گیارھویں، پندرھویں، سولھویں اور سترھویں ہول پر شاندار برڈیز کھیل کر انہوں نے سب کو حیران کر دیا۔ آخر کار وہ مجموعی طور پر چھ اوور پار کے ساتھ لیڈرز بورڈ کے سرفہرست آ گئے اور چوتھے دن چار انڈر کا بہترین اسکور کھیلا۔
سری لنکا کے کھلاڑی دانوشان کاناس کمار نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی اور زیادہ تر وقت دوسرے کھلاڑیوں پر برتری رکھتے رہے، مگر آخری دن وہ اتنے اچھے کھیل نہ دکھا سکے اور دوسرے نمبر پر اکتفا کرنا پڑا۔ تیسری پوزیشن شاہ میر مجید کے حصے میں آئی جبکہ نعمان الیاس، جو تیسرے راؤنڈ پر سب سے آگے تھے، آخری روز اپنی برتری برقرار نہ رکھ سکے اور چوتھے نمبر پر چلے گئے۔ ان کے کھیل میں مسلسل بوگیز نے ان کی پوزیشن کمزور کر دی۔
اس چیمپئن شپ میں خواتین کے مقابلے بھی منعقد ہوئے جہاں آنیہ فاروق نے بہترین کھیل پیش کیا اور ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئیں۔ دوسری پوزیشن انا جیمز گل نے حاصل کی۔ ٹیم کی سطح پر بھی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے۔ آرمی نے مینز ٹیم چیمپئن شپ اپنے نام کی جبکہ سینیئر مینز ٹیم ایونٹ ایف جی اے نے جیتا۔ بین الاقوامی ٹیم ایونٹ میں پاکستان اے ٹیم، جس میں سعد حبیب اور نعمان الیاس شامل تھے، نے کامیابی حاصل کی اور جے وردھنے ٹرافی بھی اپنے نام کی۔
اختتامی تقریب میں پاکستان گالف فیڈریشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) قاضی محمد اکرام نے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے اور کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ سعد حبیب نے اس کامیابی کے بعد کہا کہ یہ ان کے کیریئر کی سب سے بڑی جیت ہے اور وہ اپنی محنت اور اپنے کوچز کی رہنمائی کو اس کامیابی کا سہرا دیتے ہیں۔
