پاکستانی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ بحث معاملہ اب بابراعظم کی ممکنہ واپسی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی بیٹنگ لائن کی ناکامی کے بعد کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ بابراعظم کو آئندہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شامل کیا جائے۔
بابراعظم نے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بھی جنوبی افریقہ کے خلاف ہی گزشتہ سال دسمبر میں کھیلا تھا۔ اس کے بعد سے وہ قومی ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔
سلیکشن کمیٹی کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ بابراعظم اور محمد رضوان کے بجائے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا زیادہ سودمند ہوگا۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور سلیکٹر عاقب جاوید نے کھلے عام اس حکمتِ عملی کی تائید بھی کی۔ ان کے نزدیک ٹیم کی بیٹنگ کو تیز رفتار بنانے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا۔
مگر بھارت کے خلاف حالیہ دونوں شکستوں کے بعد یہ حکمتِ عملی ناکام دکھائی دینے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ سینئر بیٹر بابراعظم کو دوبارہ میدان میں لایا جائے۔
چند روز پہلے یہ بھی طے ہوا تھا کہ انہیں یو اے ای بھیجا جائے تاکہ وہ ایشیا کپ کے لیے سکواڈ کا حصہ بن سکیں، لیکن منتظمین نے سختی سے واضح کر دیا کہ اگر کسی کھلاڑی کو انجری نہ ہو تو کسی بھی صورت اسکواڈ میں تبدیلی ممکن نہیں۔
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز ہی اب بابراعظم کی واپسی کا بڑا موقع ہوگی۔ بیٹنگ آرڈر میں ان کی غیر موجودگی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے اور لگاتار ناکامیوں نے اس کمی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ دوسری جانب کپتان اور آل راؤنڈر سلمان علی آغا کا مستقبل ان کی بقیہ میچز میں کارکردگی پر منحصر ہوگا۔ اگر وکٹ کیپر محمد حارث اپنی بیٹنگ فارم بہتر نہ کر سکے تو امکان ہے کہ وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری دوبارہ محمد رضوان کو سونپی جائے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بابراعظم کی واپسی پر انہیں بطور اوپنر کھلایا جائے گا یا بیٹنگ لائن میں انہیں تیسرے یا چوتھے نمبر پر کھلانے کا منصوبہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے ایک بااثر رکن سلمان علی آغا کو ان کی شرافت اور اطاعت کی وجہ سے کھل کر سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے نجی محفلوں میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بابراعظم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔
جہاں تک بابراعظم کے ریکارڈز کا تعلق ہے، وہ آج بھی دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں سب سے تیزی سے پانچ ہزار رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا، صرف 97 اننگز میں یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی ان کا ریکارڈ نہایت شاندار ہے۔
وہ دنیا کے ان چند بلے بازوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ ففٹیز اس فارمیٹ میں اسکور کیں۔ انہوں نے اب تک 4,223 رنز بنائے ہیں جو بھارت کے روہت شرما کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہی نہیں بلکہ 2500 رنز کا سنگِ میل بھی وہ سب سے کم اننگز میں عبور کرنے والے بلے بازوں میں شامل ہیں۔
یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ انہیں وقتی طور پر ٹیم سے الگ رکھا گیا، مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ان کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انہیں دوبارہ موقع دینے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ شائقین کرکٹ بھی پرامید ہیں کہ بابراعظم کی واپسی ٹیم کو نئی جان بخشے گی اور ناکام ہوتی بیٹنگ لائن میں ایک نیا توازن پیدا کرے گی۔
