اٹلی کے شمالی شہر اُوڈینے میں ہونے والے 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ میں اٹلی نے اسرائیل کو تین صفر سے شکست دے کر نہ صرف اپنی برتری قائم رکھی بلکہ اسرائیل کے عالمی کپ تک پہنچنے کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیا۔ اٹلی کی ٹیم کی یہ شاندار جیت کھیل کے میدان سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر ایک سیاسی اور اخلاقی بحث کو بھی ہوا دے گئی، کیونکہ اسرائیل کی موجودہ جنگی کارروائیوں کے باعث اس کی بین الاقوامی کھیلوں میں شمولیت پہلے ہی متنازعہ سمجھی جا رہی تھی۔
اس میچ سے قبل اسرائیل شدید دباؤ میں تھا۔ ناروے کے ہاتھوں پانچ صفر کی عبرتناک شکست کے بعد اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے اگلے دونوں میچز جیت کر عالمی کپ کی دوڑ میں شامل رہے، مگر اٹلی کی جانب سے شاندار کھیل نے اسرائیلی ٹیم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اٹلی کی جانب سے مسلسل حملوں نے اسرائیلی دفاع کو کمزور کر دیا، اور میچ کے اختتام تک اسرائیلی کھلاڑی بے بس نظر آئے۔
یہ مقابلہ غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات میں ہوا کیونکہ اٹلی سمیت مختلف یورپی شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے جاری تھے۔ میچ سے چند گھنٹے قبل ہزاروں مظاہرین اُوڈینے کی سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ اطالوی پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو قابو میں رکھا اور میچ شروع ہونے سے قبل پرامن طور پر منتشر کر دیا، مگر میچ کے بعد صورت حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔
میچ کے اختتام پر کچھ مشتعل مظاہرین نے پولیس پر دھوئیں والے فائر کریکرز پھینکے جن کے جواب میں پولیس نے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے 18 میٹر طویل فلسطینی پرچم اور سرخ بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرہ درج تھا کہ "اسرائیل کو ریڈ کارڈ دیا جائے” — یعنی اسے فیفا سے باہر نکالا جائے۔
مظاہرے محض کھیل تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے انسانی اور اخلاقی جذبات کارفرما تھے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ فیفا دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے جو اسرائیل کو جاری جنگی کارروائیوں کے باوجود کھیلنے کی اجازت دیتی ہے۔ مظاہرین کے مطابق، "جنگ بندی” کے باوجود "امن” ابھی تک نہیں آیا۔
اٹلی کے کوچ نے بھی ستمبر میں ایک بیان میں انسانی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جو کچھ بچوں اور معصوم شہریوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ایک ہی گروپ میں ہیں، لیکن ہمارے پاس اس پر کوئی اختیار نہیں۔”
میچ اٹلی کے فیرولی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں 25 ہزار افراد کی گنجائش تھی، مگر حیران کن طور پر شائقین کی تعداد بہت کم تھی۔ زیادہ تر اٹلی کے فٹبال شوقینوں نے میچ کا بائیکاٹ کیا، اور صرف پانچ ہزار ٹکٹ فروخت ہوئے۔ جو تماشائی موجود تھے، وہ اسرائیلی قومی ترانے کے دوران احتجاجاً شور مچاتے رہے اور میچ کو “شرمناک کھیل” قرار دیتے رہے۔
دوسری جانب ایشیائی خطے میں سعودی عرب کی ٹیم نے ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے 2026 ورلڈ کپ کے لیے اپنی ساتویں بار کوالیفکیشن حاصل کر لی۔ اگرچہ عراق کے خلاف میچ برابری پر ختم ہوا، تاہم انڈونیشیا کے خلاف کامیابی نے سعودی ٹیم کی پوزیشن مضبوط کر دی، جس سے اس نے ٹورنامنٹ کے لیے جگہ بنا لی۔
یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی ممکنہ شمولیت پر پہلے ہی تنقید ہو رہی تھی۔ اسپین نے یہاں تک اشارہ دیا تھا کہ اگر اسرائیل ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ شرکت سے دستبردار ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر یورپی ممالک بھی اسی موقف پر غور کر رہے تھے۔ اٹلی کی کامیابی نے بظاہر اس بڑھتے ہوئے تنازع کو بھی وقتی طور پر ٹھنڈا کر دیا۔
اُوڈینے کے اس میچ نے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا آج بھی ممکن نہیں۔ اسرائیل کے لیے یہ شکست محض ایک کھیل کی ہار نہیں بلکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کی علامت بن گئی ہے۔ اٹلی کے لیے یہ کامیابی ورلڈ کپ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی، جبکہ ہزاروں مظاہرین کے لیے یہ دن فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
