لاہور:قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 93 رنز سے شکست دے دی۔ 277 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم چوتھے دن 183 رنز پر ڈھیر ہوگئی، یوں پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے ایڈیشن کا آغاز ایک یادگار فتح کے ساتھ کیا۔
پاکستان کے 39 سالہ لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں (10-191) حاصل کیں، جن میں دوسری اننگز میں ان کے 4 شکار (4-79) شامل تھے۔ انہیں ان کی غیر معمولی کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ نعمان علی نے ٹرن اور کم باؤنس والی پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور جنوبی افریقہ کے مڈل آرڈر کو تباہ کر دیا، اگرچہ دیوالڈ بریوس اور رائن رکلٹن کے درمیان 73 رنز کی پارٹنرشپ نے کچھ دیر کے لیے مزاحمت دکھائی۔
میچ کے چوتھے دن جنوبی افریقہ نے 51 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر اپنی اننگز کا آغاز کیا، مگر جلد ہی شاہین شاہ آفریدی نے ٹونی ڈی زورزی کو 16 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ بریوس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 54 رنز (6 چوکے، 2 چھکے) بنائے، تاہم نعمان علی کی ایک تیز ٹرن ہوتی ہوئی گیند نے ان کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ رکلٹن نے 45 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی مگر لنچ سے قبل ساجد خان نے انہیں آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کی امیدوں کا خاتمہ کر دیا۔ شاہین آفریدی نے بعد میں تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں (4-33) اور میچ کا اختتام پاکستان کی فتح پر کیا۔
لاہور کی پچ اسپنرز کے لیے جنت ثابت ہوئی، جہاں کل 40 میں سے 34 وکٹیں اسپنرز کے حصے میں آئیں۔ جنوبی افریقہ کے لیفٹ آرم اسپنر سینوران مٹھوسامی نے بھی 11 وکٹیں (11-174) حاصل کیں، مگر ان کی یہ کارکردگی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں جنوبی افریقہ 269 پر آؤٹ ہوئی، جب کہ میزبان ٹیم دوسری اننگز میں صرف 167 پر سمٹنے کے باوجود میچ جیتنے میں کامیاب رہی۔
فتح کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھائی، یہ فتح ٹیم ورک اور ڈسپلن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیم یہی تسلسل برقرار رکھے گی۔ سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ پیر سے راولپنڈی میں شروع ہوگا، جہاں پاکستان سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گا۔
