راولپنڈی : جنوبی افریقا نے پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کو یکطرفہ انداز میں شکست دے کر دو میچز کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔ 68 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا، جو پاکستان کی سرزمین پر جنوبی افریقا کی 2007 کے بعد پہلی ٹیسٹ فتح ہے۔
جنوبی افریقا کی جانب سے کپتان ایڈن مارکرم نے 42 رنز کی پُراعتماد اننگز کھیلی جبکہ رائن ریکلٹن 25 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ نعمان علی نے پاکستان کی جانب سے دونوں وکٹیں حاصل کیں۔
میچ کا فیصلہ چوتھے روز اس وقت پاکستان کے خلاف جھک گیا جب قومی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ پاکستان نے 94 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے اننگز کا آغاز کیا تو بابر اعظم صرف ایک رن کے اضافے سے 51 پر آؤٹ ہوگئے، جب کہ محمد رضوان بھی 18 رنز بناکر چلتے بنے۔ آخری چھ بلے باز مجموعی طور پر صرف 20 رنز جوڑ سکے اور پوری ٹیم 138 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
اس سے قبل جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 404 رنز بناکر 71 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔ پاکستانی اسپنر آصف آفریدی نے اپنے ڈیبیو میچ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں۔ جنوبی افریقا کی جانب سے متھوسامی (89)، ٹرسٹان اسٹبس (76) اور کگیسو ربادا (71) نمایاں رہے۔
پاکستان کی پہلی اننگز میں شان مسعود (87)، سعود شکیل (66) اور عبداللہ شفیق (57) نے ففٹیاں اسکور کیں لیکن اسپنرز کیشو مہاراج (7 وکٹیں) اور سائمن ہارمر (2 وکٹیں) نے میزبان بیٹنگ لائن کو دو بار تباہ کردیا۔
یہ کامیابی جنوبی افریقا کے لیے نہ صرف تاریخی ہے بلکہ اس نے عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹیم کی پوزیشن بھی مستحکم کر دی ہے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ شکست ہوم کنڈیشنز میں بیٹنگ اور حکمتِ عملی پر بڑے سوالات کھڑے کر گئی ہے۔
