ایف سی بارسلونا کے صدر جون لاپورتا نے سعودی عرب کے عالمی کھیلوں میں بڑھتے ہوئے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت نے بہت کم عرصے میں خود کو بین الاقوامی اسپورٹس اسٹیج پر ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد میزبان کے طور پر منوا لیا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اب محض ایک ابھرتا ہوا نام نہیں رہا بلکہ عملی طور پر عالمی سطح کے بڑے اسپورٹس ایونٹس کی میزبانی کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔
ہسپانوی سپر کپ کے سلسلے میں سعودی عرب کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جون لاپورتا نے کہا کہ اعلیٰ درجے کے یورپی فٹبال ٹورنامنٹس کی کامیاب میزبانی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی عرب کھیلوں کے میدان میں ایک سنجیدہ اور طویل المدتی وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپینش سپر کپ جیسے بڑے مقابلے کا سعودی عرب میں انعقاد عالمی فٹبال اداروں اور کلبز کے اعتماد کا مظہر ہے۔
بارسلونا کے صدر نے سعودی عرب میں فراہم کی جانے والی مجموعی سہولیات پر تفصیلی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا اسپورٹس انفراسٹرکچر عالمی معیار پر پورا اترتا ہے بلکہ بعض پہلوؤں میں توقعات سے بھی بہتر ہے۔ ان کے مطابق ٹیموں کو جو تربیتی سہولیات فراہم کی گئیں وہ جدید، منظم اور پیشہ ورانہ فٹبال کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ٹریننگ گراؤنڈز اور پچز کے معیار کو سراہا اور کہا کہ کھیل کے میدان نہایت عمدہ حالت میں تھے، جو اعلیٰ سطح کے مقابلوں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
جون لاپورتا نے وضاحت کی کہ جب ٹیموں کو چند دنوں میں مسلسل مقابلے کھیلنے ہوتے ہیں تو ان کے لیے فٹنس، ریکوری اور تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں دستیاب سہولیات نے ٹیموں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران اپنی جسمانی اور تکنیکی سطح کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں فٹبال کے تقاضوں کو گہرائی سے سمجھا گیا ہے۔
انہوں نے جدہ میں قیام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی بارسلونا کو اس شہر میں آ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ان کے مطابق جدہ ایک متحرک اور مہمان نواز شہر ہے، جہاں ٹیموں اور آفیشلز کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا گیا۔ انہوں نے منتظمین اور مقامی حکام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے ایونٹ کو احسن طریقے سے منعقد کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، جسے سعودی انتظامیہ نے بخوبی نبھایا۔ ان کے مطابق ایونٹ کی اعلیٰ تنظیم صرف میچ کے دنوں تک محدود نہیں تھی بلکہ قیام کے پورے عرصے میں اس کا معیار نمایاں رہا۔
سپینش سپر کپ سے آگے بڑھتے ہوئے جون لاپورتا نے عالمی فٹبال کے مستقبل میں سعودی عرب کے کردار پر بھی بات کی، خصوصاً 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے تناظر میں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ سعودی عرب میں ہونے والا ورلڈ کپ انتہائی کامیاب اور یادگار ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے عالمی ایونٹ کے لیے سیکیورٹی اور تحفظ بنیادی ستون ہوتے ہیں، اور سعودی عرب ان دونوں پہلوؤں میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب فٹبال انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر چکا ہے، جس میں اسٹیڈیمز، ٹریننگ سینٹرز، ٹرانسپورٹ نظام اور رہائشی سہولیات شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبے محض کاغذوں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فٹبال کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک فروغ دینے کی سعودی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت عالمی سطح کے ٹورنامنٹس کے لیے سنجیدہ تیاری کر رہی ہے۔
جون لاپورتا نے سعودی شائقینِ فٹبال کے جذبے کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے فینز نہ صرف فٹبال سے گہری وابستگی رکھتے ہیں بلکہ کھیل کی باریکیوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ورلڈ کپ یا بڑے ٹورنامنٹ کی کامیابی میں شائقین کا جوش و خروش بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور اس حوالے سے سعودی عرب کسی سے کم نہیں۔
ثقافتی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے لاپورتا نے تسلیم کیا کہ سعودی عرب کی ثقافت یورپ یا دیگر خطوں سے مختلف ہے، تاہم ان کے مطابق یہی فرق کسی مسئلے کے بجائے ایک خوبصورتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی تنوع بین الاقوامی ایونٹس کو مزید بامعنی بنا دیتا ہے اور کھلاڑیوں، شائقین اور مہمانوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ان کے بقول، سعودی عرب جیسے ثقافتی طور پر مالا مال ملک میں ہونے والا ورلڈ کپ یقینی طور پر ایک یادگار اور منفرد ماحول کا حامل ہوگا۔
ایف سی بارسلونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جون لاپورتا نے سعودی عرب میں موجود کلب کے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارسلونا کو سعودی عرب میں جس محبت اور حمایت کا سامنا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق سعودی شائقین نہ صرف اسٹیڈیمز میں بلکہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی کلب کے ساتھ بھرپور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی حمایت ٹیم کے لیے اضافی حوصلے کا باعث بنتی ہے۔ جون لاپورتا نے امید ظاہر کی کہ ایف سی بارسلونا سپینش سپر کپ کے فائنل میں کامیابی حاصل کرے گی، تاکہ سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں موجود اپنے مداحوں کو خوشی کا تحفہ دیا جا سکے۔ ان کے مطابق ٹرافی جیتنا محض ایک کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر موجود بارسلونا فیملی کے ساتھ خوشی کا ایک مشترکہ لمحہ ہوگا۔
جون لاپورتا کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے عالمی کھیلوں کے نقشے پر اپنی مضبوط موجودگی قائم کر لی ہے۔ اعلیٰ معیار کی سہولیات، مؤثر انتظامات، پرجوش شائقین اور ایک واضح طویل المدتی وژن کے ذریعے مملکت نے خود کو بڑے عالمی ایونٹس کے لیے ایک مثالی میزبان کے طور پر پیش کیا ہے۔ چاہے بات سپینش سپر کپ کی ہو یا مستقبل کے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی، جون لاپورتا کے مطابق سعودی عرب عالمی فٹبال کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
