کراچی:پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں ایک ناقابلِ یقین اور یادگار لمحہ اس وقت رقم ہوا جب پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے ہفتے کے روز کھیلے گئے پریزیڈنٹس ٹرافی کے میچ میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کا سب سے کم ہدف کامیابی سے ڈیفینڈ کرتے ہوئے 232 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔
کراچی میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں پی ٹی وی نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے خلاف محض 40 رنز کے ہدف کا کامیاب دفاع کیا اور حریف ٹیم کو صرف 37 رنز پر ڈھیر کر کے دو رنز سے تاریخی فتح اپنے نام کر لی۔
یہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے اتنے کم ہدف کا کامیاب دفاع کیا ہو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق اس سے قبل یہ ریکارڈ 1794ء سے قائم تھا، جب اولڈفیلڈ نے لندن کے تاریخی لارڈز اولڈ گراؤنڈ میں ایم سی سی کے خلاف 41 رنز کا ہدف بچاتے ہوئے چھ رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پی ٹی وی نے اس طرح 232 سال بعد اس ریکارڈ کو توڑ کر عالمی کرکٹ تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیا۔
میچ کا آغاز نسبتاً معمول کے مطابق ہوا۔ پی ٹی وی پہلی اننگز میں 166 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جس کے جواب میں ایس این جی پی ایل نے 238 رنز اسکور کر کے 72 رنز کی سبقت حاصل کی۔
کراچی کی پچز کے تیزی سے خراب ہونے کے باعث جب پی ٹی وی دوسری اننگز میں صرف 111 رنز پر ڈھیر ہوئی تو یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ ایس این جی پی ایل کے لیے جیت محض رسمی کارروائی ہوگی۔
تاہم اس کے بعد میدان میں جو کچھ ہوا وہ کرکٹ کے ناقابلِ فراموش لمحات میں شامل ہو گیا۔ پی ٹی وی کے بولرز نے غیر معمولی نظم و ضبط، جارحانہ لائن و لینتھ اور ناقابلِ یقین جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس این جی پی ایل کی مضبوط بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر تہس نہس کر دیا۔
اس تاریخی کامیابی کے ہیرو بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان رہے، جو رواں سیزن کی قائدِاعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بھی ہیں۔ انہوں نے صرف 9 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
دوسری جانب فاسٹ بولر عماد بٹ نے شاندار سپورٹ فراہم کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں اور ایس این جی پی ایل کی پوری ٹیم 37 رنز پر سمٹ گئی۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق رواں سال پریزیڈنٹس ٹرافی میں کم اسکور والے اور تیزی سے ختم ہونے والے میچز ایک نمایاں رجحان رہے ہیں، تاہم اس مقابلے کی پہلی دو اننگز نسبتاً معمول کے مطابق تھیں، جس کے باعث اس غیر متوقع انجام نے شائقین اور ماہرین کرکٹ کو یکساں طور پر حیران کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی وی کی یہ فتح نہ صرف پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کرکٹ میں آخری گیند تک کچھ بھی ناممکن نہیں
