پاکستان کی جانب سے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان نے کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور اب اس معاملے پر بھارت کے معروف سیاستدان اور کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
پیر کے روز بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ششی تھرور نے کھیل کو سیاسی تنازعات کی نذر کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں جس انداز سے کھیل کو سیاست زدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ جیسے کھیل، جو عوام کے جذبات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے تعلقات بہتر بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
ششی تھرور نے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کے کولکتہ میں کھیلنے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں میں سیاست کی مداخلت بدقسمتی کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کا ردعمل حد سے زیادہ تھا، تاہم یہ ردعمل بھی اسی سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جو خطے میں کھیل کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی اسی بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کا حصہ دکھائی دیتا ہے، اور یہ پورا معاملہ بتدریج قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریقین ہوش کے ناخن لیں اور اتفاقِ رائے پیدا کریں کہ کھیل کو کم از کم میدان کے اندر سیاست سے پاک رکھا جائے۔ ان کے مطابق آئی سی سی اس معاملے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے جہاں تمام متعلقہ ممالک بیٹھ کر اس کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
ششی تھرور نے اعتراف کیا کہ موجودہ ٹورنامنٹ کے لیے شاید بہت دیر ہو چکی ہے، مگر مستقبل میں اس طرزِ عمل کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال سب کے لیے ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر فوری رابطے اور سنجیدہ سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو کھیل کے میدان بھی سیاسی محاذ بن جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے میچ بائیکاٹ کے اعلان کے بعد آئی سی سی نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ کرکٹ شائقین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا کھیل سفارتکاری کا پل بنے گا یا سیاسی کشمکش کی نئی علامت
