انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر ناصر حسین نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں کھیل اور سیاست کا گٹھ جوڑ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں کرکٹ جو کبھی قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، اب الٹا اختلافات کو مزید گہرا کرنے لگی ہے۔
اسکائی اسپورٹس کرکٹ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں سیاست کا کھیل میں شامل ہونا ایک استثنائی صورتحال ہوتی تھی، مگر اب یہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اب صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ کھلاڑی بھی سیاسی تنازعات کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں، جو عالمی کرکٹ کے لیے تشویشناک رجحان ہے۔
ناصر حسین نے حالیہ کشیدگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بحران کی شروعات اس وقت ہوئی جب بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر **مستفیض الرحمان** کو اچانک آئی پی ایل میں کولکتہ کی ٹیم سے الگ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے معاملات کو مزید الجھا دیا اور اس کے اثرات صرف ایک لیگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی کرکٹ کے ماحول پر بھی پڑے۔
انہوں نے **چیمپیئنز ٹرافی** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میزبان پاکستان ہونے کے باوجود بھارت کو اپنے تمام میچز دبئی میں کھیلنے کی خصوصی اجازت دی گئی، جو ماضی میں کسی اور ٹیم کو میسر نہیں آئی۔ ان کے بقول یہی غیر مساوی رویہ بعد میں بنگلہ دیش اور پاکستان سے متعلق فیصلوں میں بھی جھلکتا نظر آیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ عالمی کرکٹ میں یکساں اصول لاگو نہیں کیے جا رہے۔
ناصر حسین نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال بھارت کو درپیش ہوتی اور وہ کسی عالمی ٹورنامنٹ سے عین قبل کسی ملک جانے سے انکار کر دیتا، تو کیا آئی سی سی بھی اسی سختی کا مظاہرہ کرتی؟ ان کے مطابق عالمی کرکٹ کے نظام میں شفافیت اور برابری ناگزیر ہے، ورنہ کھیل کی ساکھ متاثر ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنگلہ دیش اور پاکستان جیسی ٹیموں کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا تو ان کی کرکٹ بتدریج کمزور ہوتی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں وہ تاریخی مقابلے اور روایتی حریفیاں بھی متاثر ہوں گی جنہوں نے دہائیوں تک کرکٹ کو دنیا بھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ناصر حسین کے اس بیان کو عالمی کرکٹ میں بڑھتی سیاسی مداخلت پر ایک دوٹوک اور جرات مندانہ مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جس نے کھیل کے مستقبل پر ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔
