آئی سی سی سے کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی حامی بھرنے پر بھارتی میڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف بھارتی نشریاتی اداروں اور تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو ہندوستان کی سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی شرائط منوا کر برتری حاصل کی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عالمی کرکٹ میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، کیونکہ پاکستان کے بغیر ورلڈ کرکٹ نہیں چل سکتی۔ بعض تجزیہ کاروں نے تبصرہ کیا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت کو پاکستان سے ہاتھ ملانا اور گلے ملنا پڑا۔
بھارتی چینلز پر ہونے والی بحث میں یہ بھی کہا گیا کہ کمزور کہلانے والے پاکستان نے آئی سی سی کے فورم پر مؤثر سفارتی حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنی شرائط منوائیں، جو بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ اس دوران بھارتی میڈیا نے قومی فاسٹ بالر حارث رؤف کے ایک اشارے کا حوالہ بھی دیا، جسے انہوں نے پاکستان کی جارحانہ پوزیشن کی علامت قرار دیا۔
مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ پاکستان نے سفارتی اور اسٹریٹیجک انداز میں بنگلادیش کو بھی اپنے مؤقف کے قریب کر لیا، جس سے آئی سی سی مذاکرات میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے پاکستان کے میچ کھیلنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئی سی سی کے طے شدہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھیں گے اور تمام معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آئی سی سی کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد آئندہ ٹورنامنٹ میں پاک بھارت ٹاکرا یقینی ہو گیا ہے۔ کرکٹ شائقین اس ہائی وولٹیج مقابلے کے منتظر ہیں، جو ہمیشہ کی طرح نہ صرف کھیل بلکہ سفارتی اور جذباتی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ اس میں خطے کی سیاست، معاشی مفادات اور عالمی اسپورٹس ڈپلومیسی کے پہلو بھی شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ میدان کے اندر کی جنگ سے پہلے میدان کے باہر کی سفارتی چالیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔
