آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سنسنی خیز مرحلے میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 61 رنز سے شکست دے کر گروپ مرحلے میں اہم کامیابی سمیٹ لی۔ کولمبو کے تاریخی رن پریما داسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقابلے نے شائقین کرکٹ کی بھرپور توجہ حاصل کی، تاہم میچ کے اختتام پر بھارتی ٹیم نمایاں برتری کے ساتھ سرخرو ٹھہری۔
میچ کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور بھارتی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ ٹاس کے موقع پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے درمیان روایتی مصافحہ نہ ہونا بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی بیٹنگ لائن نے محتاط مگر جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز اسکور بورڈ پر سجائے۔
بھارتی اننگز کا آغاز زیادہ مستحکم نہ تھا۔ اوپنر ابھیشیک شرما پہلے ہی اوور میں بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، انہیں سلمان آغا نے اپنی گیند پر آؤٹ کیا۔ ابتدائی نقصان کے باوجود بھارت نے جلد ہی سنبھل کر کھیل پیش کیا۔ ایشان کشن نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پاکستانی باؤلرز کو دباؤ میں رکھا۔ انہوں نے 40 گیندوں پر 77 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں دلکش شاٹس شامل تھے۔ تاہم صائم ایوب نے انہیں بولڈ کر کے اہم پیش رفت دلائی۔
میچ کے درمیانی اوورز میں تلک ورما نے 25 رنز کی مفید اننگز کھیل کر اسکور کو آگے بڑھایا، لیکن 15ویں اوور میں صائم ایوب نے انہیں بھی آؤٹ کر دیا۔ اسی اوور کی اگلی گیند پر ہاردک پانڈیا بغیر کوئی رن بنائے صائم ایوب کا شکار بنے، جس سے بظاہر پاکستان کو واپسی کا موقع ملا۔ اس کے باوجود بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 32 رنز اسکور کیے، تاہم وہ 159 کے مجموعی اسکور پر عثمان طارق کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ دیگر بیٹرز میں دوبے نے 27 رنز کا اضافہ کیا جبکہ اکشر پٹیل کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے۔ ایک بھارتی کھلاڑی رن آؤٹ بھی ہوا۔
پاکستان کی جانب سے صائم ایوب سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ عثمان طارق، شاہین شاہ آفریدی اور کپتان سلمان آغا نے ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔ اگرچہ پاکستانی باؤلرز نے وقفے وقفے سے کامیابیاں حاصل کیں، مگر بھارتی ٹیم ایک مسابقتی مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب رہی۔
176 رنز کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن کو مضبوط آغاز کی ضرورت تھی، تاہم بھارتی باؤلنگ اٹیک نے ابتدا ہی سے دباؤ برقرار رکھا۔ پاکستانی ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔ یوں بھارت نے واضح برتری کے ساتھ میچ اپنے نام کیا۔
پاکستانی ٹیم میں اس میچ کے لیے کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ پلئینگ الیون میں صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، بابر اعظم، سلمان علی آغا، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور عثمان طارق شامل تھے۔ بیٹنگ لائن سے بڑی اننگز کی توقع کی جا رہی تھی، مگر بھارتی باؤلرز نے انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
دوسری جانب بھارتی ٹیم نے اپنی ترکیب میں دو ردوبدل کیے تھے۔ ابھیشیک شرما اور کلدیپ یادیو کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا گیا، اور ٹیم مینجمنٹ کا یہ فیصلہ سودمند ثابت ہوا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے میدان میں منظم حکمت عملی کے تحت کھیل پیش کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک بڑا مارجن قائم کرنے میں کامیاب رہے۔
کولمبو کے اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے میچ کے دوران زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ مقابلہ ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور اس میچ نے بھی شائقین کو سنسنی خیز لمحات فراہم کیے۔ تاہم مجموعی طور پر بھارتی ٹیم کھیل کے تینوں شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہی۔
اس فتح کے ساتھ بھارت نے گروپ مرحلے میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی جبکہ پاکستان کو اگلے میچز میں واپسی کے لیے بھرپور محنت درکار ہوگی۔ شائقین کی نظریں اب دونوں ٹیموں کی آئندہ کارکردگی پر مرکوز ہیں، کیونکہ ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں ہر میچ کی اہمیت غیر معمولی ہوتی ہے۔
