زمبابوے نے گروپ بی کی پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ایک سنسنی خیز مقابلے میں سری لنکا کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر اہم کامیابی سمیٹی۔ آر پریما داسا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں نے مختلف اوقات میں برتری حاصل کی، مگر آخرکار زمبابوے کی منظم حکمت عملی، برائن بینیٹ کی ذمہ دارانہ اننگز اور کپتان سکندر رضا کی جارحانہ بیٹنگ نے کھیل کا رخ ان کے حق میں موڑ دیا۔
سری لنکا نے ٹاس کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے دھواں دار آغاز کیا۔ اوپنرز کوشل پریرا اور پاتھم نسانکا نے ابتدائی اوورز میں جارحانہ انداز اپنایا اور زمبابوے کے بولرز پر دباؤ بڑھا دیا۔ دونوں نے مل کر صرف پانچ اوورز میں 54 رنز کی شراکت قائم کی، جس سے میزبان ٹیم کو مضبوط بنیاد میسر آئی۔ کوشل پریرا 22 رنز بنا کر بلیسنگ مزاربانی کا شکار بنے، جس سے ابتدائی شراکت کا خاتمہ ہوا، لیکن نسانکا نے اپنی اننگز جاری رکھی اور پراعتماد انداز میں اسکور آگے بڑھاتے رہے۔
نسانکا نے عمدہ شاٹس کھیلتے ہوئے اپنی 19ویں ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری مکمل کی اور ٹیم کو 100 کے ہندسے سے آگے پہنچایا۔ تاہم درمیانی اوورز میں زمبابوے کے بولرز نے شاندار کم بیک کیا۔ کوشل مینڈس تیزی سے رنز بنانے میں ناکام رہے اور 14 رنز بنا کر ریان برل کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد تجربہ کار اسپنر گریم کریمر نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پہلے نسانکا کو 62 رنز پر آؤٹ کیا اور پھر کامندو مینڈس کو بھی پویلین بھیج دیا، جس سے سری لنکا کی بیٹنگ لائن دباؤ میں آگئی۔
کپتان داسن شناکا بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور جلد ہی مزاربانی کا دوسرا شکار بن گئے۔ آخری اوورز میں پاون رتھنےکے نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 44 رنز کی تیز اننگز کھیلی، جس میں خوبصورت باؤنڈریز اور چھکے شامل تھے، مگر بریڈ ایونز نے انہیں آؤٹ کرکے سری لنکا کو بڑا اسکور بنانے سے روک دیا۔ ایونز نے اسی اوور میں دُشن ہیمانتھا کو بھی بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ کیا۔ آخر میں دونیتھ ویلالاگے نے چند قیمتی رنز جوڑ کر سری لنکا کا مجموعہ 178 رنز تک پہنچایا، جو اگرچہ مقابلے کا اسکور تھا مگر آغاز کے مقابلے میں کچھ کم محسوس ہو رہا تھا۔
زمبابوے کی جانب سے بلیسنگ مزاربانی، بریڈ ایونز اور گریم کریمر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جب کہ ریان برل نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ان بولرز کی منظم کارکردگی نے سری لنکا کو بڑے اسکور سے محروم رکھا۔
179 رنز کے تعاقب میں زمبابوے نے مثبت انداز اپنایا۔ برائن بینیٹ اور تادیواناشے مارومانی نے اننگز کا آغاز اعتماد کے ساتھ کیا اور پاور پلے میں تیز رفتاری سے اسکور بڑھایا۔ دونوں کے درمیان 69 رنز کی شراکت قائم ہوئی، جس نے ہدف کے تعاقب کو آسان بنا دیا۔ مارومانی نے 34 رنز کی مفید اننگز کھیلی لیکن نویں اوور میں آؤٹ ہوگئے۔
ریان برل نے مختصر مگر مؤثر اننگز کھیلتے ہوئے 23 رنز بنائے اور رن ریٹ کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد کپتان سکندر رضا کریز پر آئے اور میچ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے لگاتار چھکے جڑے اور مطلوبہ رنز کی رفتار کم کر دی۔ رضا اور بینیٹ کے درمیان 50 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی جس نے زمبابوے کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔
رضا نے 45 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں چار فلک شگاف چھکے شامل تھے، مگر 19ویں اوور میں وہ آؤٹ ہوگئے۔ اسی اوور میں ایک اور وکٹ گرنے سے میچ میں وقتی سنسنی پیدا ہوگئی۔ آخری اوور میں زمبابوے کو آٹھ رنز درکار تھے۔ ٹونی منیونگا نے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے پہلا ہی گیند پر زبردست چھکا لگا کر فتح یقینی بنا دی۔ برائن بینیٹ 63 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور اپنی ذمہ دارانہ اننگز کے ذریعے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
یہ فتح زمبابوے کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے ساتھ ہی وہ گروپ بی میں سرفہرست پہنچ گئے۔ ٹیم نے نہ صرف بیٹنگ میں حوصلہ اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا بلکہ بولنگ میں بھی نظم و ضبط برقرار رکھا۔ سری لنکا کے لیے اگرچہ نسانکا اور رتھنےکے کی اننگز قابلِ ذکر رہیں، مگر درمیانی اوورز میں وکٹوں کا نقصان اور آخری لمحات میں دباؤ برداشت نہ کر پانا ان کی شکست کا سبب بنا۔
زمبابوے نے اس کامیابی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ ٹورنامنٹ میں سنجیدہ دعوے دار ہیں۔ منظم بولنگ، مضبوط شراکتیں اور دباؤ میں پرسکون انداز نے انہیں ایک یادگار جیت دلائی، جو آگے کے میچز میں ان کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گی۔
