پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں اس وقت ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جب قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے اپنے داماد اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی حالیہ کارکردگی پر کھل کر تنقید کی۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاہین کی بولنگ حکمتِ عملی اور میچ کے اہم لمحات میں فیصلوں کو لے کر آفریدی نے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا بلکہ مجموعی طور پر قومی ٹیم کی سوچ اور تیاری پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ جدید کرکٹ میں صرف رفتار یا سوئنگ کافی نہیں ہوتی بلکہ گیم سینس، حالات کے مطابق حکمت عملی اور دباؤ میں درست فیصلے کرنا زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک بولر کئی برسوں سے بین الاقوامی سطح پر کھیل رہا ہو تو اسے یہ بخوبی معلوم ہونا چاہیے کہ میچ کے آخری اوور میں کون سی لائن اور لینتھ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور کس اینڈ سے گیند کروانا بہتر رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بارہا رہنمائی کے باوجود وہی غلطیاں دہرانا کسی بھی پروفیشنل کھلاڑی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
سابق کپتان نے تکنیکی پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف راؤنڈ دی وکٹ گیند کرانے کا فیصلہ ہمیشہ درست حکمت عملی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اگر ایسی صورت میں یہ زاویہ اختیار بھی کیا جائے تو گیند کو وکٹوں کے اندر رکھا جانا چاہیے تاکہ بیٹر کو آسان شاٹس کھیلنے کا موقع نہ ملے۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ ان بنیادی باتوں پر کئی بار توجہ دلائی جا چکی ہے، لیکن میدان میں ان پر عمل درآمد نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے اس گفتگو کو صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ٹیم کے مجموعی رویے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسکواڈ میں کچھ کھلاڑیوں کا تاثر یہ بن چکا ہے کہ میچ جیتنے کی ذمہ داری صرف ایک یا دو افراد پر عائد ہوتی ہے، جب کہ کرکٹ ایک اجتماعی کھیل ہے جہاں ہر رکن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے۔ آفریدی کے مطابق جب تک پوری ٹیم یکساں سوچ اور عزم کے ساتھ میدان میں نہیں اترے گی، مستقل مزاجی پیدا نہیں ہو سکتی۔
شاہد آفریدی نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جدید کرکٹ میں جہاں دیگر ٹیمیں ڈیٹا اینالیسز، میچ سچویشن اور ذہنی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں، وہاں پاکستان اب بھی کئی معاملات میں پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ رویہ، سیکھنے کی خواہش اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑی بار بار ایک جیسی غلطیاں دہراتے رہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو وہ سیکھنے میں سنجیدہ نہیں یا انہیں درست رہنمائی پر عمل کرنے کی عادت نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ بہتری کی نشاندہی ہے۔ ایک سابق کپتان اور سینئر کرکٹر کی حیثیت سے وہ چاہتے ہیں کہ قومی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں کے برابر کھڑی ہو۔ ان کے بقول جب نوجوان کھلاڑیوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہو تو پھر نتائج توقع کے مطابق نہ آئیں تو سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
آفریدی نے مزید کہا کہ ورلڈکپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں ہر اوور، ہر گیند اور ہر فیصلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے مواقع پر تجربہ کار کھلاڑیوں سے زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر ٹیم کے اہم باؤلر ہی دباؤ میں درست فیصلے نہ کر پائیں تو پھر مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو نہ صرف تکنیکی اعتبار سے بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اہم میچز میں غلطیوں کی گنجائش کم سے کم ہو۔
انہوں نے مجموعی طور پر پاکستانی کرکٹ کے نظام پر بھی بات کی اور کہا کہ ہمیں اپنی سوچ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ دنیا بھر میں کرکٹ کا معیار تیزی سے بلند ہو رہا ہے اور اگر ہم نے خود کو اپ ڈیٹ نہ کیا تو فاصلہ مزید بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق صرف وقتی کامیابیوں پر خوش ہونے کے بجائے ایک طویل المدتی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جس میں کھلاڑیوں کی تربیت، ذہنی تیاری اور میچ مینجمنٹ پر خصوصی توجہ ہو۔
گفتگو کے اختتام پر شاہد آفریدی نے اس امید کا اظہار کیا کہ تنقید کو مثبت انداز میں لیا جائے گا اور کھلاڑی اپنی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے پاس صلاحیت کی کمی نہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کھلاڑی سیکھنے کا جذبہ پیدا کریں اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس مضبوط کریں۔ ان کے مطابق اگر یہی رویہ برقرار رہا تو عالمی کرکٹ میں پاکستان کا مقام مستحکم ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ہم دوسروں سے پیچھے رہتے جائیں گے۔
