آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں، جو کہ نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ دیکھا گیا۔ بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 256 رنز کا بڑا ہدف قائم کیا، جس سے نیوزی لینڈ کی ٹیم پر شدید دباؤ پڑ گیا۔ تاہم بلیک کیپس اپنی چیس کے آغاز میں ہی مشکلات کا شکار ہو گئے اور ابتدائی وکٹیں جلد گنوا بیٹھے، جس کے باوجود ٹم سیفیرٹ اور مارک چیپ مین نے بیٹنگ کا بیڑا سنبھالنے کی کوشش کی۔
بھارت کی اننگز کا آغاز انتہائی جارحانہ انداز میں ہوا، جہاں اوپننگ جوڑی ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن نے ابتدائی سات اوورز میں 98 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ شرما خاص طور پر جارحانہ نظر آئے اور صرف 21 گیندوں پر 52 رنز بنا کر چھ فاورز اور تین شاندار چھکوں کی مدد سے ٹیم کا بیٹنگ آغاز مضبوط کیا۔ ان کے اس جارحانہ آغاز نے باقی ٹیم کو بھی ہدف کی جانب تیز رفتاری سے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
نیوزی لینڈ کے راوندر رچن نے آٹھویں اوور کی پہلی گیند پر شرما کو کیچ آؤٹ کر کے اوپننگ شراکت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد بھی بھارت کی رفتار کم نہ ہوئی، اور ایشان کیشان نے سیمسن کے ساتھ شراکت داری قائم کرتے ہوئے محض 47 گیندوں پر 105 رنز کی شاندار شراکت کی۔ کیشان نے اپنی 25 گیندوں کی اننگز میں چار چھکوں اور چار فاورز کی مدد سے 54 رنز بنائے، جبکہ سیمسن نے 46 گیندوں پر 89 رنز اسکور کر کے ٹیم کی رفتار برقرار رکھی اور بہترین جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔
16ویں اوور میں نیوزی لینڈ کے جیمز نیشام نے دو اہم وکٹیں حاصل کر کے بھارت کے اسکور کو 204/4 تک پہنچا دیا۔ کیشان اور سیمسن دونوں وکٹیں گنوا بیٹھے، لیکن بھارت کی بیٹنگ لائن اپ کی گہرائی نے پھر ثابت کیا کہ یہ ٹیم کسی بھی دباؤ میں بھی بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ اس کے بعد آل راؤنڈر ہارڈک پانڈیا اور تیلاک ورما نے پانچویں وکٹ کے لیے 22 رنز کی قیمتی شراکت کی، مگر پانڈیا کی وکٹ پہلے ہی اوور میں گر گئی۔
اننگز کے آخری لمحات میں شِوام ڈوبے نے تیز رفتار 26 رنز کی اننگز کھیل کر بھارت کے ہدف کو مزید بڑا اور مشکل بنایا، جس میں تین فاورز اور دو شاندار چھکے شامل تھے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے جیمز نیشام نے چار اوورز میں 46 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کر کے سب سے مؤثر بولر کا اعزاز حاصل کیا۔ رچن راوندر اور میٹ ہنری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، مگر بھارت کی جارحانہ بیٹنگ کا زور روکنے کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔
نیوزی لینڈ نے ہدف کے تعاقب کا آغاز کیا تو کپتان مچل سینٹنر نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو بالکل غلط ثابت ہوا۔ بلیک کیپس ابتدائی اوورز میں ہی تین وکٹیں گنوا بیٹھے اور چھ اوورز کے اختتام تک ان کا اسکور 52/3 تھا۔ ٹم سیفیرٹ 21 ناٹ آؤٹ اور مارک چیپ مین اس کے ساتھ کریز پر موجود تھے، مگر ابتدائی وکٹوں کے نقصان نے نیوزی لینڈ کی اننگز پر دباؤ ڈال دیا اور ٹیم کبھی اسکور کو مستحکم نہیں کر سکی۔
