پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے حالیہ پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ ٹیم کے اہم کھلاڑی بابر اعظم اور فخر زمان اس وقت انجری کا شکار ہیں اور اس وجہ سے وہ بنگلہ دیش کے خلاف شیڈول سیریز میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور کمیٹی تحقیقات کرائے گی کہ یہ دو اہم کھلاڑی ورلڈ کپ کے فوراً بعد کیسے انجری کا شکار ہوئے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ زخمی ہونا عالمی ایونٹ کے دوران ہی ہوا یا بعد میں کوئی اور عوامل تھے۔
عاقب جاوید نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹیم سے بڑی توقعات تھیں، لیکن وہ وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی جس کی توقع کی گئی تھی۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ ٹیم کے رزلٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت کے خلاف نتائج میں 8 صفر کا ریکارڈ شامل ہے، لیکن باقی میچز کو الگ دیکھیں تو صرف ایک میچ میں ٹیم کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک میچ بارش کی نذر ہوا اور سیمی فائنل میں باہر ہونے پر تنقید شروع ہو جاتی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا، سب بدل دو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر ہار کے بعد تنقید عام بات ہے۔
عاقب جاوید نے بتایا کہ بابر اعظم سمیت دیگر کھلاڑیوں کے ورلڈ کپ میں جانے یا نہ جانے کے بارے میں فیصلہ سلیکشن کمیٹی نے مشترکہ طور پر کیا تھا، اور بنگلہ دیش میں سیریز کے لیے پہلے ہی منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے تاکہ ٹیم کی گہرائی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا کھیلنے کے لیے مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں، اور یہ بھی سوال ہے کہ اگر ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ جاتی تو یہ کھلاڑی کھیلنے کے قابل ہوتے یا نہیں۔
عاقب جاوید نے اس بات پر زور دیا کہ پلیئنگ الیون کے انتخاب کا اختیار کوچ اور کپتان کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ یہی لوگ میدان میں کھلاڑیوں کو میدان میں اتارتے ہیں اور یہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون کیوں کھیلے اور کون نہیں۔ ان کے مطابق سلیکشن کمیٹی کا کام صرف ٹیم کے فریم ورک کو ترتیب دینا اور کھلاڑیوں کی مکمل فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر تجویز پیش کرنا ہے، پلیئنگ الیون کے آخری انتخاب میں کمیٹی کا حصہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر اسٹیک ہولڈر کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور ہار یا ناکامی کے بعد فوری طور پر سلیکٹرز یا کپتان کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں۔ عاقب جاوید نے کہا کہ ہر ایونٹ کے بعد لوگ یہ کہتے ہیں کہ سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو، کپتان بدل دو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تبدیلیاں مسلسل کی گئی ہیں اور ٹیم کی ترقی کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2009 کے بعد پاکستان کرکٹ کی ڈیولپمنٹ اتنی مؤثر نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی، اور ہر ہار کے بعد صرف الزام تراشی کی جاتی ہے، جبکہ اصل مسئلہ مستقل ترقی اور منصوبہ بندی کا ہے۔
سلیکشن کمیٹی کے رکن نے یہ بھی واضح کیا کہ سابق کوچ جیسن گلیسپی نے کہا تھا کہ 15 رکنی ٹیم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی، اس لیے کمیٹی کو مکمل طور پر انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی کمیٹی نے 20 کھلاڑیوں کی فہرست دی تاکہ کوچ اور کپتان خود فیصلہ کریں کہ کمبی نیشن کے لحاظ سے کون سے کھلاڑی بہترین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ایونٹس کے لیے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کی بنیاد پر ہی کھلاڑی منتخب نہیں کیے جا سکتے، بلکہ ہر کھلاڑی کی مکمل کارکردگی اور فٹنس کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
عاقب جاوید نے انڈرسٹینڈنگ شیئر کی کہ کوچ کو فری ہینڈ دیا جانا چاہیے تاکہ وہ میدان میں موجود حالات کے مطابق کھلاڑیوں کو منتخب کر سکے اور ٹیم کی بہترین کارکردگی یقینی بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کا کام صرف پلاننگ اور تجویز پیش کرنا ہے، فائنل فیصلہ کوچ اور کپتان کا ہے، کیونکہ یہی لوگ میچ کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھتے ہیں اور فوری فیصلے کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔
انہوں نے ٹیم کی حالیہ کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ سیمی فائنل تک پہنچنے کی توقع تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ہار کے بعد تنقید ہوتی ہے، لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے اور ہر ٹیم کسی نہ کسی موقع پر مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کی ترقی اور کھلاڑیوں کی فٹنس کو ہمیشہ اولین ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ صرف ہار کے بعد فوری ردعمل دینا۔
دوسری جانب، سابق کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ وکٹ کیپرز کی پائپ لائن مضبوط ہے اور اس میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر جیسے نوجوان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غازی غوری کی حالیہ فارم بہت اچھی رہی ہے اور وہ ایک قابل اعتماد آپشن ہیں۔ اس کے علاوہ، شامل حسین کی ڈومیسٹک کارکردگی بھی شاندار رہی ہے، جس سے ٹیم کے لیے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ موجودہ وقت میں ان کی ذمہ داری یہ دیکھنا ہے کہ ٹیم کو کس پوزیشن پر کس کھلاڑی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی موقع ملتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کپتانی میں غلطیاں کھیل کا حصہ ہیں، اور ہر ٹیم کو ہر ایونٹ میں غلطیوں کے ساتھ بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ ٹیم کی کارکردگی، کھلاڑیوں کی فٹنس، اور ان کے انجریز کو سمجھنا نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا بھی اہم ہے تاکہ ٹیم کی گہرائی مضبوط ہو اور انٹرنیشنل ایونٹس میں کارکردگی بہتر ہو۔
ان تمام بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سلیکشن اور کوچنگ سٹرکچر میں کھلاڑیوں کی فٹنس، کارکردگی اور ٹیم کی مکمل ترقی کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، اور ہر اسٹیک ہولڈر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم مسلسل بہتری کی طرف گامزن رہے۔
