لاہور قلندرز کے تیز رفتار گیند باز حارث رؤف نے حالیہ کارکردگی اور تنقید کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ میں ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کا ایک مقابلہ اچھا نہ گزرے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اچانک ایک کمزور یا ناکام گیند باز بن گیا ہے۔ کھیل میں اتار چڑھاؤ آنا ایک فطری بات ہے اور کسی ایک مقابلے کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانا درست نہیں۔
ایک گفتگو کے دوران حارث رؤف نے بتایا کہ موجودہ دور میں کرکٹ کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور جارحانہ ہو گیا ہے۔ میدانوں کی ساخت، پچ کی نوعیت اور باؤنڈریوں کے قریب ہونے کی وجہ سے بلے بازوں کے لیے زیادہ رنز بنانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر مقابلوں میں اسکور بھی زیادہ بنتا ہے اور گیند بازوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں کہ ہر گیند باز ہر مقابلے میں کم رنز دے۔ کبھی ایک یا دو گیند باز اچھی کارکردگی دکھا لیتے ہیں لیکن باقی کھلاڑیوں کو رنز پڑ جاتے ہیں، جو کہ کھیل کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ٹیم مجموعی طور پر بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے اور ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
حارث رؤف کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں گیند بازی میں تنوع اور مہارت بہت اہم ہو گئی ہے۔ اگر گیند باز مختلف انداز سے گیند پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو بلے بازوں کے لیے انہیں سمجھنا اور ان کے خلاف رنز بنانا آسان نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی گیند بازی میں نئی مہارتیں شامل کریں اور حالات کے مطابق حکمت عملی اپنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے دوران تنقید کا سامنا ہر کھلاڑی کو کرنا پڑتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس تنقید کو کس طرح لیا جائے۔ ان کے بقول وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی آراء کو مثبت انداز میں قبول کریں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کریں تاکہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
حارث رؤف نے کہا کہ ایک پیشہ ور کھلاڑی کے لیے خود اعتمادی سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔ اگر کھلاڑی اپنے اوپر یقین رکھے اور محنت جاری رکھے تو مشکل وقت زیادہ دیر نہیں رہتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور یہی باہمی اعتماد ٹیم کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑی ہر تجربے سے سیکھے اور اگلے مقابلے میں پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے۔ ان کے مطابق یہی سوچ ایک کھلاڑی کو آگے بڑھنے اور اپنے کھیل کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
