کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیگ اسپنر ابرار احمد نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیم اب کراچی مرحلے میں نئی توانائی اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ٹیم اپنی صلاحیتوں کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر سکی، اس لیے اب تمام کھلاڑی ماضی کی ناکامیوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے سرے سے آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
ابرار احمد کے مطابق لاہور میں ہونے والے ابتدائی مقابلے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے مایوس کن رہے کیونکہ کئی میچز ایسے تھے جن میں ٹیم کامیابی کے قریب پہنچنے کے باوجود فتح حاصل نہ کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر ٹیم نے اچھی پوزیشن حاصل کر لی تھی لیکن مڈل آرڈر کی بیٹنگ میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے فائدہ ضائع ہو گیا۔ ان کے بقول خاص طور پر اسلام آباد اور کراچی کے خلاف مقابلوں میں جیت کے امکانات موجود تھے، مگر ٹیم ان مواقع کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پائی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے، لیکن مجموعی طور پر ٹیم نے کئی شعبوں میں اچھی کرکٹ کھیلی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اصل صلاحیت ابھی سامنے نہیں آئی اور کراچی میں ہونے والے میچز میں ٹیم اپنی بہتر شکل دکھا سکتی ہے۔ ابرار احمد نے امید ظاہر کی کہ کراچی کی پچیں اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوں گی اور انہیں اپنی بولنگ کے ذریعے میچ پر اثر انداز ہونے کا موقع ملے گا۔
ابرار احمد نے کہا کہ موجودہ دور کی مختصر طرز کی کرکٹ میں بولرز کے لیے کام پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے کیونکہ زیادہ تر میدان اور وکٹیں بیٹنگ کے لیے سازگار ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں صرف رفتار یا روایتی بولنگ کافی نہیں ہوتی بلکہ ہر بولر کو ذہانت کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق ایک کامیاب بولر وہی ہوتا ہے جو وکٹ کی نوعیت، میچ کی صورتحال اور سامنے موجود بیٹر کی کمزوریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بنائے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں چھوٹی سی غلطی بھی میچ کا رخ بدل سکتی ہے، اس لیے بولرز کو ہر گیند پر توجہ مرکوز رکھنا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی اکانومی بہتر رکھیں اور مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھیں کیونکہ اس سے پوری ٹیم کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اگر بولرز رنز روکنے میں کامیاب ہو جائیں تو بیٹنگ لائن بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ کھیل سکتی ہے۔
اپنے ذاتی اہداف کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابرار احمد نے کہا کہ وہ انفرادی کامیابی کے بجائے ٹیم کی مجموعی کامیابی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا اصل خواب یہ ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو دوبارہ ٹرافی جتوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بولنگ سے ٹیم کو فائدہ پہنچتا ہے اور ٹیم فائنل تک پہنچتی ہے تو یہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ابرار احمد نے شائقین کی کم تعداد پر بھی افسوس ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں کھیلنے کا لطف ہی الگ ہوتا ہے کیونکہ تماشائیوں کی آواز اور حمایت کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ شائقین میدان میں آ کر اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
دی ہنڈریڈ میں شرکت سے متعلق سوال پر ابرار احمد نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم چیز کرکٹ کھیلنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جہاں بھی کھیلیں، ان کی پوری توجہ اپنی کارکردگی اور کھیل میں بہتری پر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی لیگ یا مقابلے میں حصہ لینے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بطور کھلاڑی مزید سیکھا جائے اور اپنی ٹیم کے لیے بہتر نتائج دیے جائیں۔
ابرار احمد نے آخر میں کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاس اب بھی ایونٹ میں واپسی کا مکمل موقع موجود ہے اور ٹیم کراچی مرحلے میں بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی مہم کو دوبارہ مضبوط بنا سکتی ہے۔
