کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے بائیسویں میچ میں پشاور زلمی نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کے ذریعے ملتان سلطانز کو با آسانی شکست دے دی۔ اس مقابلے میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں زلمی کی برتری واضح رہی جبکہ ہدف کے تعاقب میں سلطانز کی ٹیم مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکی اور مقررہ اوورز میں شکست سے دوچار ہوئی۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی نے مقررہ بیس اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 196 رنز بنائے۔ اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں ہوا جب اوپنرز محمد حارث اور بابر اعظم نے مل کر 48 رنز کی تیز رفتار شراکت قائم کی۔ حارث نے ابتدائی لمحات میں ہی مخالف بولرز پر دباؤ ڈال دیا اور صرف 17 گیندوں پر 40 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی جس میں چار بلند و بالا چھکے اور تین خوبصورت چوکے شامل تھے۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ نے ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا تاہم وہ پانچویں اوور میں پیٹر سڈل کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
اوپننگ شراکت کے خاتمے کے بعد بابر اعظم نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے۔ انہوں نے 20 گیندوں پر 18 رنز بنائے جن میں ایک چھکا شامل تھا اور وہ محمد نواز کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد کُسل مینڈس کریز پر آئے اور انہوں نے بیٹنگ لائن کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اسکورنگ ریٹ بھی برقرار رکھا۔ مینڈس نے مڈل آرڈر بلے باز فارحان یوسف کے ساتھ مل کر اہم 63 رنز کی شراکت قائم کی جس نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔
فارحان یوسف نے 22 گیندوں پر 30 رنز کی اننگز کھیلی جس میں تین شاندار چھکے شامل تھے تاہم وہ محمد وسیم جونیئر کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد مائیکل بریسویل کے ساتھ مل کر مینڈس نے مزید 34 رنز کا اضافہ کیا لیکن یہ شراکت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور دونوں کھلاڑی محمد اسماعیل کی شاندار بولنگ کی بدولت پویلین لوٹ گئے۔ بریسویل 14 رنز بنا سکے جبکہ مینڈس نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا امتزاج پیش کرتے ہوئے 40 گیندوں پر 68 رنز اسکور کیے جن میں چار چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔
اننگز کے آخری اوورز میں افتخار احمد نے مختصر مگر مؤثر اننگز کھیلتے ہوئے 11 رنز کا اضافہ کیا تاہم وہ بھی آخری اوور میں پیٹر سڈل کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ سلطانز کی جانب سے پیٹر سڈل اور محمد اسماعیل نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نواز اور محمد وسیم جونیئر کو ایک ایک کامیابی ملی۔
ہدف کے تعاقب میں ملتان سلطانز کا آغاز مایوس کن رہا اور ان کی پہلی وکٹ صرف 30 رنز کے مجموعے پر گر گئی جب صاحبزادہ فرحان 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ابتدائی نقصان کے بعد اسٹیو اسمتھ اور جوش فلپ نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی اور 55 رنز کی شراکت قائم کی، تاہم دسویں اوور میں صوفیان مقیم نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے دونوں سیٹ بلے بازوں کو آؤٹ کر کے میچ کا رخ بدل دیا۔ فلپ نے 17 گیندوں پر 32 رنز اسکور کیے جبکہ اسمتھ 29 گیندوں پر 31 رنز بنا سکے۔
اس کے بعد شان مسعود نے کپتان آشتن ٹرنر اور ارافات منہاس کے ساتھ کچھ مزاحمت دکھائی مگر وہ بھی طویل شراکت قائم نہ کر سکے۔ شان مسعود نے 19 گیندوں پر 35 رنز کی تیز اننگز کھیلی جس میں پانچ چوکے شامل تھے اور وہ افتخار احمد کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ملتان کی ٹیم مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔
اگلے اوور میں ناہید رانا نے ارافات منہاس کو صرف چار رنز پر آؤٹ کر کے مزید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد محمد وسیم جونیئر بھی دو رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ محمد نواز نے 16 رنز کی اننگز کھیلی مگر وہ بھی ٹیم کو جیت کے قریب نہ لے جا سکے اور آخری اوور سے قبل آؤٹ ہو گئے۔
ملتان سلطانز مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز ہی بنا سکی اور انہیں 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صوفیان مقیم نے شاندار اسپن بولنگ کرتے ہوئے 30 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور میچ کے اہم بولر ثابت ہوئے۔ ان کے علاوہ افتخار احمد اور ناہید رانا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ عامر جمال نے بھی ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس مقابلے میں پشاور زلمی کی جیت کی بنیاد ان کی متوازن بیٹنگ اور موثر اسپن بولنگ رہی۔ ٹیم نے نہ صرف مضبوط مجموعہ اسکور کیا بلکہ ہدف کے دفاع میں بھی حکمت عملی کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کو دباؤ میں رکھا۔ اس کامیابی کے ساتھ زلمی نے ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی اور مسلسل عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھا۔
