پاکستان سپر لیگ کے جاری سیزن کے دوران شائقین کی عدم موجودگی نے نہ صرف کرکٹ کے ماحول کو متاثر کیا بلکہ فرنچائز مالکان اور مداحوں کی جانب سے بھی اس فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے۔ اسی تناظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک بار پھر وزیرِاعظم سے ملاقات کر کے اس معاملے پر نظرِ ثانی کی درخواست کریں گے تاکہ اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
کراچی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ اس بات کے لیے بھرپور کوشش کرے گا کہ شائقین دوبارہ میدانوں کا رخ کریں، کیونکہ ان کے بغیر لیگ کا جوش و خروش اور اصل رنگ متاثر ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا کہ موجودہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، کئی اہم فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
چند روز قبل حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کی پالیسیوں کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے میچز بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جائیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف اخراجات میں کمی لانا تھا بلکہ عوامی نقل و حرکت کو محدود کر کے توانائی کے بحران کے اثرات کو بھی کم کرنا تھا۔ اسی سلسلے میں میچز کے مقامات کو بھی محدود کرتے ہوئے صرف کراچی اور لاہور تک رکھا گیا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب عالمی سطح پر ایندھن کے بحران نے شدت اختیار کی، جس کی ایک بڑی وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومت نے مختلف شعبوں میں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کیے، جن کا اثر کھیلوں کی سرگرمیوں پر بھی پڑا۔
دوسری جانب لیگ کی مختلف ٹیموں کے مالکان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ شائقین کی موجودگی لیگ کی پہچان ہے اور اس کے بغیر مقابلوں کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم اور صوبائی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور محدود تعداد میں ہی سہی، تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دی جائے۔
چیئرمین بورڈ نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود انہوں نے لیگ کے انعقاد کو کامیابی سے یقینی بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ شائقین کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم میچوں کے شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی زیر غور نہیں۔
مزید برآں، انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ فرنچائزز کو گیٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی فراہم کی جائے گی جبکہ دیگر اخراجات بورڈ خود برداشت کرے گا تاکہ ٹیموں کو مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے National Bank Cricket Arena کے مستقبل کے حوالے سے بھی اشارہ دیا اور کہا کہ اس میدان کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اس کی ازسرِنو تعمیر یا جامع جائزے پر غور کیا جا رہا ہے۔
