ریاض/اسلام آباد: حرمین شریفین میں بڑھتے ہوئے ہجوم، سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب نے ایک مرتبہ پھر بچوں کے حج میں شرکت پر پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جو رواں برس بھی مکمل سختی سے نافذ العمل ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے واضح کیا کہ یہ اقدام حجاج کرام کے تحفظ اور خصوصاً بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ حج جیسے عظیم اور مجمع سے بھرپور مذہبی اجتماع میں بچوں کی موجودگی نہ صرف ان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے بلکہ انتظامی چیلنجز میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
حج کوٹہ میں اضافہ، مگر ہزاروں پاکستانی رہ گئے پیچھے
دلچسپ امر یہ ہے کہ رواں برس پاکستان کو 10 ہزار اضافی حج کوٹہ تو ملا، لیکن اس کے باوجود پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت 67 ہزار پاکستانی عازمین اس مرتبہ بھی حج کی سعادت سے محروم رہ جائیں گے، جس پر عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حج کے متوالے ہزاروں پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ سال کے لیے پرائیویٹ اسکیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ کوئی بھی صاحب استطاعت حاجی اس مقدس فریضے سے محروم نہ رہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بچوں پر پابندی کا فیصلہ انتظامی لحاظ سے درست ہے، لیکن پاکستان جیسے ممالک کو بھی اپنے سسٹمز میں شفافیت اور برابری لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر عازم کو بر وقت اور منصفانہ طریقے سے حج کا موقع مل سکے۔
